Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 11:نام کیسے رکھے جائیں ؟
12 - 43
نہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر کا لقب” عتیق“ اور حضرت عمرکا ”فاروق“اور حضرت عثمان غنی کا ”ذوالنورین“اور حضرت علی کا” ابوتراب“اور حضرت خالد کا”سَیْفُ اللہ“رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور جو اَلقاب بمنزلۂ علَم (نام کے قائم مقام) ہو گئے اور صاحبِ اَلقاب کو ناگوار نہیں وہ اَلْقاب بھی ممنوع نہیں جیسے کہ اَعمش (کم بینائی والا) اَعْرج (لنگڑا) ۔“
اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی بُرے ناموں سے پکارنے کی ممانعت آئی ہے چنانچہ نبیوں کے سلطان ،رحمتِ عالمیان ، سردارِ دو جہان، محبوبِ رحمٰنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے : اپنے بھائیوں کو ان کے اچھے ناموں سے پُکارو، بُرے ناموں سے نہ پُکارو۔(۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ کسی مسلمان کو ایسے نام سے پکارنا  جس سے اُس کی برائی ظاہر ہوتی ہو یہ ناجائز وحرام ہے لہٰذا کسی کو لمبا، ٹِھگنا، اندھا  یا بدّھو وغیرہ کہہ کر  نہیں  پکار  سکتے ۔ اگر کسی سے یہ خطا سرزد ہوئی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ  اپنے اس مسلمان بھائی  سے مُعافی مانگ کر اُسے  راضی کر لے ۔ بعض اوقات لوگ اپنا ایسا نام سن کر کھِسیانی ہنسی ہنستے ہیں جس سے پکارنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ناراض نہیں ہوتے حالانکہ ان کی دل شکنی
()
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کَنْزُالْعُمّال،کتاب النکاح، الباب السابع فی برّ الْاَولاد و حقوقھم،الفصل الاول ،الجزء:۱۶، ۸/۱۷۵، حدیث:۴۵۲۱۱