حکم کا علم ہی نہیں ہوتا البتہ یہ یاد رہے کہ نابالغ اور غیر موجود وارث کے حصہ میں سے دینے کی اجازت نہیں۔
سوال: بہت سارے لوگ اپنی نافرمان اولاد کو اپنی جائیداد سے عاق کرنے کی وصیت کرتے ہیں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب: جو شخص کسی شرعی عذر کے بغیر اپنے ماں باپ کاجائزحکم نہ مانے یا مَعَاذَاللہ انہیں اِیذاء پہنچائے وہ در حقیقت عاق اور شدید وعیدوں کا مستحق ہے اگرچہ والدین اسے عاق نہ کریں بلکہ اپنی فرط ِمحبت سے دل میں ناراض بھی نہ ہوں جبکہ جو شخص والدین کی فرمانبرداری میں مصروف رہے لیکن والدین شرعی وجہ کے بغیر ناراض رہیں یا وہ کسی خلافِ شرع بات میں اپنے والدین کا کہا نہ مانے اور اس وجہ سے والدین ناخوش ہوں تو وہ شخص ہرگزعاق نہیں۔ حکمِ شرعی یہ ہے کہ کوئی شخص عاق ہونے کی وجہ سے ماں باپ کے ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتا اگرچہ والد لاکھ بار اپنے فرمانبردار، خواہ نافرمان بیٹے کو کہے کہ میں نے تجھے عاق کیا یااپنے ترکہ سے محروم کردیا،نہ اس کایہ کہناکوئی نیا اثرپیداکرسکتاہے نہ وہ اس بنا پر کوئی ترکہ سے محروم ہوسکتا ہے۔البتہ اگر اولاد فاسق وفاجر ہے اور گمان یہ ہے کہ انتقال کے بعد وہ اس کے مال کو بدکاری وشراب نوشی وغیرہ بُرائیوں میں خرچ کر ڈالے گی تو اس صورت میں زندگی میں فرمانبردار اولاد کوسارامال دے کر اس پر قبضہ دلادینا یا اس جگہ کو کسی نیک کام کیلئے وقف کردینا جائز ہے کہ یہ حقیقت میں میراث سے محروم کرنا نہیں بلکہ اپنے مال اور اپنی کمائی کو حرام میں خرچ ہونے سے بچانا ہے۔