Brailvi Books

مال وراثت میں خیانت نہ کیجئے
35 - 40
 حقیقی والدین کے بیٹے ہونے سے خارج نہیں  کرتا۔(1)
سوال: 	کیا منہ بولا بیٹا،بہن،بھائی وغیرہا بھی وارث ہوتے ہیں ؟
جواب: 	امام اہلسنّت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :منہ بولابیٹانہ ایسے شخص کابیٹاہوتاہے اور نہ ہی اپنے باپ سے بے تعلق ہوتاہے کیونکہ حقیقتوں میں  تغیرنہیں  ہوتا۔ شرعی طورپروہ اپنے باپ کا وارث ہے نہ کہ اس دوسرے شخص کا جس نے اس کو منہ بولا بیٹا بنایا ہے۔ اگردوسرا شخص چاہے تو منہ بولے بیٹے کے حق میں  وصیت کردے تاکہ اس کامال اس کے منہ بولے بیٹے کے ہاتھ میں  آجائے اوریہ وراثت نہ ہوگی، خبردار! وارث کے لئے وصیت نہیں  ہوتی، اور کسی کامنہ بولا بیٹابن جانا اس کے لئے باپ کی میراث سے مانع نہیں  ہوتا۔(2)
 سوال: 	والدین کی زندگی میں  جوبیٹایابیٹی فوت ہوجائے، اس کاحصہ ہوگا یا نہیں ؟
جواب: 	شرعی اعتبار سے کسی شخص کے انتقال کے وقت اس کے زندہ ورثاء ہی ترکہ کے وارث قرار پاتے ہیں  لہٰذا جو بیٹا یا بیٹی اپنے والدین کی زندگی میں  ہی اس دنیائے فانی سے رخصت ہوجائے تواس کا والدین کے مال میں  کوئی حصہ نہ ہوگا البتہ اگر اپنے والدین کے انتقال کے بعد اور ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے کسی وارث کا انتقال ہوجائے تو اس صورت میں  وہ وارث ہوگا اور اس کا حصہ اس کے ورثاء کے مابین تقسیم ہوگا۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 …فتاویٰ رضویہ، ۲۶/۸۴، ملخصاً۔
2 …فتاویٰ رضویہ، ۲۶/۱۷۹، ملتقطاً۔