میں یہ وصیت جائز ونافذ نہیں ہوگی۔(1)
سوال: کیا ساس سسر کے ترکہ میں داماد یا بہو کا حصہ ہوتا ہے؟
جواب: ساس سسر کی جائیدا دمیں داماد یا بہو اپنے اس رشتہ کی وجہ سے کسی طرح وارث نہیں ہاں اگر کسی اور رشتہ کے طور پر وارث بنیں تو ممکن ہے مثلا ًدامادبھتیجا ہو اوردیگر مقدم ورثاء نہ ہوں تو اب یہی وارث ہوگا۔
چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے:داماد یاخسرہونا اصلاً کوئی حقِ وراثت ثابت نہیں کرسکتا خواہ دیگر ورثاء موجود ہوں یانہ ہوں ہاں اگر اوررشتہ ہے تواس کے ذریعہ سے وراثت ممکن ہے مثلاًداماد بھتیجا ہے خسرچچاہے تواس وجہ سے باہم وراثت ممکن ہے ایک شخص مرے اوردووارث چھوڑے ایک دختراورایک بھتیجا کہ وہی اس کا داماد ہے توداماد بوجہ برادرزادگی نصف مال پائے گا اوراگراجنبی ہے توکل مال دختر کو ملے گا داماد کاکچھ نہیں۔ وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَم(2)
سوال: لے پالک بچہ اپنے پرورش کرنے والے کا وارث ہوتا ہے یا نہیں ؟
جواب: اسلامی اعتبار سے لے پالک بچہ اپنے حقیقی والدین کا وارث ہوگاجبکہ پرورش کرنے والے کا وارث نہیں ہوگا۔ امام اہلسنّت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : متبنّٰی (یعنی کسی کا منہ بولابیٹا) ہوناشرعاً ترکہ میں کوئی اِستحقاق پیدا نہیں کرتا اور اگر یہ مراد ہے کہ اس صورت میں زیداپنی حقیقی والدہ یا والد کے ترکہ سے حصہ پائے گا یا نہیں ، تو جواب یہ ہے کہ بے شک پائے گا (کیونکہ) کسی کا اسے اپنا بیٹا بنالینا اپنے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 … فتاوی رضویہ،۲۵/۳۳۲،ملخصاً۔
2 …فتاویٰ رضویہ، ۲۶/۳۳۱۔