Brailvi Books

مال وراثت میں خیانت نہ کیجئے
33 - 40
 الْعِبَاد جیسے لوگوں  کا قرضہ ہو تو اسے وصیت میں  اس لئے ذکر نہیں  کیا کہ وراثت کی تقسیم میں  وصیت سے پہلے قرضوں  کی ادائیگی کا جداگانہ حکم موجود ہے یعنی مال چھوڑ کر مرنے والا قرضوں  کی ادائیگی کی وصیت کرے یا نہ کرے بہرصورت قرض ادا کیا ہی جائے گا۔
	مستحب یہ ہے کہ انسان اپنے تہائی مال سے کم میں  وصیت کرے خواہ ورثاء مالدار ہوں  یا فقرائ، البتہ جس کے پاس مال تھوڑا ہو اس کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ وصیت نہ کرے جبکہ اس کے وارث موجود ہوں  اور جس شخص کے پاس کثیر مال ہووہ بھی تہائی مال سے زیادہ وصیت نہ کرے۔ 
سوالـ:	کیا کسی وارث کیلئے وصیت کرنا جائز ہے جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے کیلئے ہی وصیت کرے؟
جواب: 	ورثاء کیلئے وصیت کرنا جائز نہیں ، چنانچہ نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: وارث کیلئے کوئی وصیت نہیں مگر یہ کہ ورثاء چاہیں۔(1)
	البتہ اگر کسی نے اپنے وارث کیلئے وصیت کی اور دیگر ورثاء سب بالغ ہوں  اور وہ اجازت بھی دیدیں  تو وارث کیلئے وصیت جائز ونافذ ہوجائے گی اور اگر ورثاء میں  بالغ ونابالغ سب شامل ہیں  اور بعض ورثاء اجازت دیدیں  تو ان اجازت دینے والوں  میں  سے جوبالغ ہیں صرف انہی کے حصوں  میں یہ وصیت جائز ونافذ ہوجائے گی جبکہ یتیم وارث اور نابالغ وارث اور اجازت نہ دینے والے بالغ ورثاء کے حصوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 … دار قطنی، کتاب ا لفرائض والسیر وغیر ذلک، ۴/۱۱۳، الحدیث: ۴۱۰۸۔