Brailvi Books

مال وراثت میں خیانت نہ کیجئے
32 - 40
 بیوی کا حق مہر کہاں  سے ادا کیا جائے گا ؟اور اگر بیوی کا انتقال ہوگیا تو شوہر یہ حق مہر کسے ادا کرے گا؟
جواب: 	اگر شوہر نے اپنی زندگی میں  بیوی کا حق مہر ادا نہ کیا اورنہ ہی عورت نے اپنی خوشی سے مہر معاف کیا تو اس صورت میں  شوہر کے ترکہ سے بیوی کا حق مہر ادا کیا جائے گا اور چونکہ حق مہر قرض ہے لہٰذاکفن دفن کے اخراجات کے بعد جبکہ وصیت پوری کرنے اورورثاء میں  تقسیم سے پہلے ہی بیوی کا حق مہر ادا کیا جائے گا اور اس معاملہ میں  ہمارے معاشرہ میں  جو یہ طریقہ رائج ہے کہ میت پر ہاتھ رکھ کر عورت سے زبردستی مہر معاف کروایا جاتا ہے یہ بالکل غلط ہے، اس کی نہ تو کوئی شرعی حیثیت اور نہ ہی اس طرح معاف کرانے سے حق مہر معاف ہوتاہے۔رہی یہ بات کہ اگر حق مہر ادا کرنے سے پہلے بیوی کا انتقال ہوجائے تو اس صورت میں  حق مہر کی رقم بیوی کے تمام ورثاء کے درمیان ان کے حصوں  کے مطابق تقسیم ہوگی جس میں  شوہر خود بھی حصہ دارہوگا۔
 سوال: 	وصیت کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور کتنے مال کی وصیت کرنی چاہئے؟
جواب: 	وصیت کرنے کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر مرنے والے کے ذمہ کسی قسم کے ’’حُقُوقُ اللہ‘‘ باقی نہ ہوں  تووصیت کرنا مستحب ہے،اور اگراس پر حُقُوقُ اللہ کی ادائیگی باقی ہوجیسے اس کے ذمے کچھ نمازوں  کا ادا کرنا باقی ہو، یا حج فرض ہونے کے باوجود ادا نہ کیاہو، یا کچھ روزے چھوڑے تھے وہ نہ رکھے ہوں ، تو ایسی صورت میں واجب ہے کہ ان چیزوں  کا فدیہ دینے کیلئے وصیّت کرے۔میت پر مالی حُقُوقُ