Brailvi Books

مال وراثت میں خیانت نہ کیجئے
31 - 40
(2)…پھر جو مال بچ جائے ا س سے میّت کا قرضہ ادا کیا جائے،بیوی کا مہر اَدا نہ کیاہو تو وہ بھی قرض شمار ہوگا۔ 
(3)…پھر اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اُسے قرض ادا کرنے کے بعد بچ جانے والے مال کے تیسرے حصے سے پورا کیا جائے گا، ہاں  اگر سب ورثا بالغ ہوں اور سب کے سب تیسرے حصے سے زائدمال سے وصیت پوری کرنے کی اجازت دیں  تو زائد مال سے وصیت پوری کرنا جائز ہے ورنہ جتنے ورثاء اجازت دیں  ان کے حصے کی بقدر وصیت پرعمل ہوسکتا ہے۔
(4)…وصیت پوری کرنے کے بعدجو مال بچ جائے اسے شرعی حصوں  کے مطابق ورثا میں  تقسیم کیا جائے۔(1)
سوال:	میت کے چھوڑے ہوئے مال کے وارث کون کون ہیں  اور ہر وارث کا کتنا حصہ ہے ؟
جواب:	میت کے چھوڑے ہوئے مال و اسباب کے ورثاء قرآن و حدیث میں  بیان کردئیے گئے ہیں  لیکن ان میں  مختلف افراد کے حصے مختلف ہیں  اور یونہی مختلف افراد دوسروں  پر مقدم ہوتے ہیں  جیسے بہن اور بیٹی کے حصے مختلف ہیں  اور بیٹا پوتے پر مقدم ہے کہ بیٹے کے ہوتے ہوئے پوتا وراثت کا مستحق نہیں۔ لہٰذا جب وراثت کا مسئلہ پیش آئے تو علمِ میراث کے ماہر سنی عالم سے باقاعدہ پوچھ کر عمل کیا جائے۔
سوال: 	اگر شوہر نے بیوی کا حق مہر ادا نہیں  کیا اور شوہر کاانتقال ہوگیا تو اب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 …بہارِ شریعت،حصہ بستم، وراثت کا بیان،۳/۱۱۱۱-۱۱۱۲،ملخصاً۔