Brailvi Books

مال وراثت میں خیانت نہ کیجئے
30 - 40
اس کے باوجود وہ اس سے نفع اٹھارہے ہوتے ہیں  جبکہ اس مال کے حقیقی مالک بے چارے نہ صرف بہت پریشان حال ہوتے ہیں  بلکہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے لوگوں  کے سامنے قرض وغیرہ کیلئے دست ِسوال دراز کئے ہوئے ہوتے ہیں  اور شاید اسی آس میں  رہتے ہیں  کہ کب میراث تقسیم ہواور ہمیں  اپنا حصہ ملے۔ مگر افسوس! تقسیم کے بعد بھی ان کی امید دھری کی دھری رہ جاتی ہے کیونکہ اگر کبھی تقسیم کی نوبت آتی بھی ہے تو اس دورانیہ میں  مزید کئی ورثاء کے انتقال کے باعث مالِ ترکہ صحیح طور پر تقسیم نہیں  ہو پاتا جس کے نتیجے میں  بہت سے حق دار اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں  اور ان کا مال غیر مستحق افراد کے ہاتھوں  میں  چلا جاتا ہے۔ لہٰذا عافیت اسی میں  ہے کہ اسلام کے دئیے ہوئے احکامات کے مطابق جلد از جلد میراث کا مال تقسیم کر دیا جائے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں  اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین۔
میراث سے متعلق شرعی احکامات
سوال: 	کسی مسلمان کے انتقال کے بعدا س کے چھوڑے ہوئے مال و اسباب سے متعلق شریعت کے احکام کیاہیں  ؟
جواب: 	جب کسی مسلمان کا انتقال ہو جائے تواس کے مال و اسباب سے متعلق شریعت نے چار احکام دئیے ہیں ، 
(1)…سب سے پہلے میت کے مال سے سنت کے مطابق اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین کی جائے۔