فوری مطالبہ نہ کریں تو اگرچہ انہیں فوراً دینا ضروری نہیں لیکن عموماً اس طرح کے مقامات پر نہ دینے کا نتیجہ بالآخر کلی طور پر محروم کردینے کی صورت میں ہی نکلتاہے یعنی والدین کو بالکل ہی وراثت نہیں دی جاتی۔
آٹھویں غفلت،باپ کی دوسری بیوی کوحصہ نہ دینا:
جب باپ کی وراثت تقسیم کی جائے تو ا س میں اس کی ہر بیوی کا حصہ ہوتا ہے اگرچہ وہ اولاد کے لئے حقیقی ماں کی جگہ سوتیلی ماں ہو کیونکہ سوتیلی ماں ہونا تو اولاد کے اعتبار سے ہے،جبکہ شوہر کے اعتبار سے تو وہ اس کی بیوی ہی ہے اور بیوی کا وراثت میں حصہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں میراث تقسیم کرتے وقت بعض اوقات باپ کی دوسری بیویوں یعنی سوتیلی ماؤں کو حقِ وراثت سے محروم کردیا جاتا ہے حالانکہ وہ بھی بیوی کی حیثیت سے دوسری بیوی یعنی بچوں کی حقیقی ماں کی طرح وراثت کی حق دار ہے۔
مذکورہ بالا کلام کو سامنے رکھتے ہوئے تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ مالِ ترکہ کو قرآن وحدیث کے بیان کردہ حصوں کے مطابق اِن کے مستحقین میں تقسیم کردیں اورترکہ کی تقسیم میں ہرگز ہرگز تاخیرنہ کریں بلکہ جس قدر جلدی ہوسکے ہر شخص کو اس کا حصہ دیدیں تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اسے استعمال کرسکے، نیز میراث کی تقسیم میں تاخیر کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پیچیدگیاں بڑھتی جاتی ہیں ، نسل در نسل ترکہ تقسیم نہ کرنے سے عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ ترکہ کئی کئی پشتوں تک ایسے افراد کے تصرف و استعمال میں رہتا ہے جن کا اس پر کوئی حق نہیں ہوتا مگر