دوسری شادی کر لینے کی وجہ سے بیوہ کو اس کا حصہ نہیں دیاجاتا،یہ حکمِ الٰہی کی صریح خلاف ورزی اور ناجائز و حرام ہے اور ا س سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
چھٹی غفلت،زندگی میں والدین سے جائیداد تقسیم کرنے کا جبری مطالبہ کرنا:
زندگی میں ہرشخص اپنے مال اور اس میں تصرف کرنے کا مالک ہے،وہ جس کو جتنا چاہے دے سکتا ہے کیونکہ یہ دینا بطورِ میراث نہیں ،وراثت تو مرنے کے بعد تقسیم ہوتی ہے، البتہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اولاد کے درمیان اپنی تقسیم کرنا چاہتا ہے توسب بیٹے، بیٹیوں کو برابر برابر دینا افضل ہے اور اگر اولاد میں کوئی علمِ دین سیکھنے اور دینی خدمت میں مشغول ہے تو اسے دوسروں سے زیادہ دے سکتے ہیں۔ہمارے ہاں اولاد اپنے والدین کو اس بات پر مختلف طریقوں سے مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کر دیں ، ان کا یہ جبری مطالبہ ناجائز ہے کیونکہ یہ والدین کی دل آزاری کا سبب ہے جو کہ ناجائز وگناہ ہے۔
ساتویں غفلت، والدین کواولاد کی وراثت سے حصہ نہ دینا:
اولاد کے انتقال کے وقت اگر والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں زندہ ہیں تو وہ بھی اپنی اولاد کے وارث ہیں اوراس کے ترکہ سے حصہ پائیں گے۔ ہمارے ہاں بعض جگہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اولاد تو والدین کے مال میں حصہ دار ہوتی ہے لیکن والدین اولاد کے مال میں حصہ دار نہیں ہوتے، یہ بات واضح طور پر غلط اور قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔ ایک دوسری غفلت اسی صورت میں یہ ہے کہ ماں یا باپ کووارث تو سمجھاجاتا ہے لیکن وراثت انہیں دی نہیں جاتی۔ والدین اگر