ساتھ ساتھ بیٹیوں اور بہنوں کو ان کا حصہ لوٹا دینا لازم ہے اور ان کا یہ عذر کرنا غلط ہے کہ لڑکی کی شادی دھوم دھام سے کردی تھی،اس لئے وہ میراث کی حق دار نہیں ہے۔
چوتھی غفلت،بیٹیوں اور بہنوں سے وراثت کا حصہ معاف کروالینا:
ٍ وراثت ایک ایسا مالی حق ہے جو لازمی طورپر وارث کی ملکیت میں آجاتا ہے، وہ اسے بہر صورت لینا ہی ہے،نہ اسے معاف کر سکتا ہے اور نہ ہی اس سے معاف کروایا جا سکتا ہے۔ہمارے ہاں بعض اوقات وراثت کی حق دار عورتیں جیسے بیٹیاں اور بہنیں اپنا حصہ لینے کی بجائے معاف کر دیتی ہیں اور بعض اوقات دیگر رشتہ دار انہیں اپنا حصہ معاف کر دینے کا کہتے اور ا س پر زور دیتے ہیں۔ یہ دونوں صورتیں غلط ہیں ، معاف کرنے یا کروانے سے ان کا حصہ ختم نہیں ہوگا،مردوں پر لازم ہے کہ وہ حق دار عورتوں کو ان کا حصہ دیں اور عورتوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے حصے کو اپنے قبضے میں لیں ،البتہ اگر اپنے حصۂ وراثت پر قبضہ کرنے کے بعد کسی جبر و اِکراہ اور زور زبردستی کے بغیر محض اپنی خوشی سے کسی دوسرے وارث کو اپنا حصہ دینا چاہیں تو اس کا اختیار انہیں حاصل ہے۔
پانچویں غفلت، بیوہ دوسری شادی کرلے تو اُسے پہلے شوہر کی میراث سے حصہ نہ دینا:
جو عورت شوہر کے انتقال کے وقت اس کے نکاح یا اس کی عدت میں ہو وہ اپنے شوہر کی وارث ہے، پھر اگرچہ وہ عدت پوری ہونے کے بعد دوسری شادی کرلے جب بھی اس کا حقِ وراثت باقی رہتا ہے،ختم نہیں ہوجاتا۔ہمارے ہاں