وارثوں کا حصہ جدا نہیں کرتے بلکہ سبھی کے ساتھ مشترک رکھتے ہیں اور اسی مشترکہ مال سے صدقہ و خیرات کیا جا رہاہوتا ہے، رشتہ داروں میں غمی خوشی کے مواقع پر لین دین چل رہا ہوتا ہے، گھر میں آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی ہو رہی ہوتی ہے،بھائی بہن کی شادی میں اور تعلیم وغیرہ میں وہی مال صرف ہو رہا ہوتا ہے۔ اس مشترکہ مال میں یہ سب تصرفات ناجائز و حرام ہیں کیونکہ اس میں یتیم کا مال بھی شامل ہے جسے ان معاملات میں خرچ کرنا جائز نہیں ،لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ یتیم اور نابالغ وارث کا حصہ جدا کر دیا جائے، اس کے بعددیگر بالغ ورثاء باہمی رضامندی سے اِن معاملات میں مالِ وراثت خرچ کر یں۔یتیم کا مال گھر کے افراد کیلئے مشترکہ پکائے گئے کھانے اور اس سے ملتی جلتی چیزوں میں ملالینا جائز ہے لیکن صدقہ و خیرات، مہمان نوازی اور رشتے داریوں کے لین دین میں دینا ہرگز جائز نہیں۔
تیسری غفلت،بیٹیوں اور بہنوں کو میراث سے حصہ نہ دینا:
ہمارے معاشرے میں بیٹیوں اور بہنوں کو میراث سے ان کاحصہ نہ دینا بھی عام ہوتا جا رہا ہے حالانکہ باپ کے مال میں بیٹیوں کاحق قرآنِ مجید کی نصِ قطعی سے ثابت ہے جسے کوئی ختم نہیں کرسکتا۔یاد رہے کہ لڑکیوں کو حصہ نہ دینا حرامِ قطعی ہے،لہٰذا اگر والدین نے وصیت وغیرہ کے ذریعے بیٹیوں کو ان کے حصے سے محروم کر دیایا بیٹوں نے بہنوں کو ان کا حصہ دینے کی بجائے سارا مال آپس میں تقسیم کر لیا، یا ان کا حصہ کسی غیر ِوارث کودیدیا تویہ ضرورظلم ہے اور ایسے لوگوں پر توبہ کے