والے اخراجات میت کے چھوڑے ہوئے مال سے کئے جاتے ہیں اور اس کے وارثوں میں یتیم اور نابالغ بچے بھی ہوتے ہیں اور ان کے حصے سے بھی وہ اخراجات لئے جاتے ہیں ،حالانکہ یتیموں یا دیگر نابالغ ورثاء کے حصے سے یہ کھانے پکا کر لوگوں کو کھلاناناجائز و حرام ہے بلکہ اگر یتیم یا کوئی نابالغ وارث اجازت بھی دیدے تب بھی ان کا مال ان کاموں میں استعمال کرنا جائز نہیں لہٰذا نہایت ضروری ہے کہ اس طرح کے کھانے صرف بالغ ورثاء کی رضامندی سے ان کے حصے سے کئے جائیں ،نیزیہ بھی یاد رکھیں کہ جنازے کے بعد کا کھانا اور سوئم کاکھانا ہمارے ہاں کے عرف و رواج میں دعوتِ میت کے طور پر ہوتا ہے اور یہ کھانا صرف فقیروں کیلئے جائز ہے، مالداروں کیلئے نہیں ، لہٰذا اگر بالغ ورثاء بھی ان کھانوں کا اہتمام کریں تو صرف فقراء کو کھلائیں۔
نوٹ: ایصالِ ثواب کے ثبوت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کیلئے شیخِ طریقت امیر ِاہلسنّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ ’’فاتحہ اور ایصالِ ثواب کا طریقہ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔
دوسری غفلت،یتیم اور نابالغ ورثاء کے حصوں سے بے جا اخراجات کرنا:
یتیم بچوں کو وراثت میں جو حصہ ملتا ہے یا اس کے علاوہ ان کی اپنی کسی جائز کمائی یا تحفہ وغیرہ کے ذریعے جو مال انہیں ملتا ہے اسے خرچ کرنے کے حوالے سے عام گھروں میں بہت سی غفلتیں اور کوتاہیاں پائی جاتی ہیں ،جیسے یتیم اور نابالغ