بھی نہیں ہوتا اور وہ یتیموں کا مال کھانے کے حرام فعل میں مُلَوّث ہوجاتا ہے جیسے جب میت کے ورثاء میں کوئی یتیم ہے تو اس کے مال سے یا اس کے مال سمیت مشترک مال سے دوسرے لوگوں کیلئے فاتحہ تیجہ وغیرہ کا کھانا حرام ہے کہ اس میں یتیم کا حق شامل ہے، لہٰذا یہ کھانے صرف فقراء کیلئے بنائے جائیں اور صرف بالغ ورثاء کے مال سے ان کی اجازت سے تیار کئے جائیں ورنہ جو بھی جانتے ہوئے یتیم کا مال کھائے گا وہ دوزخ کی آگ کھائے گااور قیامت میں اس کے منہ سے دھواں نکلے گا۔
مالِ وراثت سے متعلق پائی جانے والی8 عمومی غفلتیں
میراث کے شرعی احکام سے لا علمی کی بنا پر جبکہ بعض اوقات فکر ِآخرت کی کمی اور اسلامی احکام پر عمل کا جذبہ نہ ہونے کی وجہ سے مالِ وراثت کے بارے میں ہمارے معاشرے میں بہت سی غفلتوں اور کوتاہیوں کا اِرتکاب کیا جاتا ہے، یہاں ان میں سے 8غفلتیں ملاحظہ ہوں تاکہ مسلمان ان کی طرف توجہ کر کے اصلاح کی کوشش کر سکیں۔
پہلی غفلت، یتیم وارث کے مال سے میت کی فاتحہ،نیاز اور سوئم وغیرہ کے اخراجات کرنا:
کسی شخص کا انتقال ہونے پر ا ُسے ثواب پہنچانے کے لئے ورثاء سوئم، دسواں ،چالیسواں ، فاتحہ اور نذر و نیاز کا اہتمام کرتے ہیں ،یہ اچھے اور باعث ِثواب اعمال ہیں لیکن اس میں بعض اوقات یہ غفلت برتی جاتی ہے کہ ان اُمور پر ہونے