پیچھے سے نکل جاتے۔ میں نے پوچھا:اے جبرائیل! (عَلَیْہِ السَّلَام)، یہ کون لوگ ہیں ؟ عرض کی:’’یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کامال ظلم سے کھاتے تھے۔‘‘(1)
چوتھی وعید، یتیم کا مال نا حق کھانے والا جنت اور ا س کی نعمتوں سے محروم ہو جائے گا:
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی ِکریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’چار شخص ایسے ہیں جنہیں جنت میں داخل نہ کرنا اور اس کی نعمتیں نہ چکھانا اللہ تعالیٰ پر حق ہے: (1)شراب کا عادی۔ (2)سود کھانے والا۔ (3)ناحق یتیم کا مال کھانے والا۔ (4)والدین کا نافرمان۔(2)
یتیم کا مال کھانے سے کیا مراد ہے؟
یتیم کا مال ناحق کھانا کبیرہ گناہ اور سخت حرام ہے۔ قرآن پاک میں نہایت شدت کے ساتھ اس کے حرام ہونے کا بیان کیا گیا ہے۔ افسوس کہ لوگ اس میں بھی پرواہ نہیں کرتے۔ عموماً یتیم بچے اپنے تایا، چچا وغیرہ کے ظلم و ستم کا شکار ہوتے ہیں،انہیں اِس حوالے سے غور کرنا چاہیے۔یہاں ایک اور اَہم مسئلے کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ یتیم کا مال کھانے کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی باقاعدہ کسی بُری نیت سے کھائے تو ہی حرام ہے بلکہ کئی صورتیں ایسی ہیں کہ آدمی کو شرعی اَحکام کا علم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 …تہذیب الاثار، مسند عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ، ذکر من روی عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم انّہ رأی من ذکرت من السموات، ۲/۴۲۷، الحدیث: ۷۲۵۔
2 …مستدرک حاکم، کتاب البیوع ، انّ اربی الربا عرض الرجل المسلم ، ۲/۳۳۸، الحدیث:۲۳۰۷۔