’’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔
اورجب کوئی وارث مالِ وراثت سے اپنے حصہ پر قبضہ کر لے پھر دوسرا وارث اس کے حصے کو چھین لے تو یہ کسی مسلمان کا مال ناحق غصب کرنا ہے۔
مسلمان کا مال ناحق غصب کرنے کی3 وعیدیں :
اَحادیث میں مسلمان کا مال ناحق غصب کرنے پربڑی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ،یہاں ان میں سے تین اَحادیث ملاحظہ ہوں :
پہلی وعید،غاصب کو بروزِ قیامت سات ز مینوں کا طوق پہنایا جائے گا:
حضرت سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے بالشت کے برابر زمین نا حق لی تو قیامت کے دن اُسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔(2)
دوسری وعید،غاصب کے فرائض و نوافل مقبول نہیں :
حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ جو زمین کے کسی ٹکڑے پرناجائز طریقے سے قابض ہوا تواسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل۔(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 … النساء: ۲۹۔
2…بخاری،کتاب بدء الخلق،باب ماجاء فی سبع ارضین،۲/۳۷۷،الحدیث:۳۱۹۸۔
3…مسندابی یعلی،مسند سعدبن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ،۱/۳۱۵،الحدیث:۷۴۰۔