القائم بہ واذا قدر فی صلاتہ علی القیام یتمھا قائمًا وان لم یکن الموضوع کذلک یکون مومئًا فلا یصح اقتداء القائم بہ واذا قدر فیھا علی القیام استانفھا بل یظہر لی أنہ لو کان قادرًا علی وضع شیٔ علی الأرض مما یصح السجود علیہ أنہ یلزم ذلک لأنہ قادر علی الرکوع والسجود حقیقۃ ولا یصح الإیماء بھما مع القدرۃ علیھما بل شرطہ تعذرھما کما ھو موضوع المسئلۃ۔‘‘ (علامہ شامی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ فرماتے ہیں :) ’’میں کہتا ہوں :‘‘ اس مسئلہ میں حق بات یہ ہے کہ اس میں تفصیل ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر رکوع میں محض سر سے اشارہ کیا اس کے ساتھ پشت کو جھکائے بغیر تو یہ اشارہ ہے حقیقتاً رکوع نہیں تو رکوع کے اشارہ کے بعد مطلقاً حقیقی سجدہ معتبر نہیں اور اگر رکوع میں پشت کو جھکایا بھی تو یہ رکوع حقیقتاً معتبر ہے حتّٰی کہ قیام پر قادر شخص کیلئے نفل نماز میں اس کی مطلقاً اجازت ہے۔ تو اس وقت دیکھا جائے گا کہ اگر وہ زمین پر رکھی چیز ایسی ہے کہ جس پر سجدہ کرنا درست ہے مثلاً پتھر پر کیا اور وہ ایک یا دو اینٹوں سے زیادہ بلند بھی نہیں تو اس پر کیا جانے والا سجدہ حقیقی سجدہ ہے اور نمازی اشارہ کرنے والا نہیں رکوع و سجدہ کرنے والا قرار پائے گا حتّٰی کہ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے والے کے لئے ایسے کی اقتداء کرنا صحیح ہے اور جب وہ دورانِ نماز قیام پر قادر ہو جائے تو بقیہ نماز کھڑے ہو کر مکمل کرے گا (نئے سرے سے پڑھنے کی حاجت نہیں )، اور اگر وہ زمین پر رکھی ہوئی چیز ایسی ہے کہ جس پر حقیقتاً سجدہ درست نہیں ہوسکتا تو اب یہ اشارہ سے نماز پڑھنے والا ہوگالہٰذا اب قائم اس کی اقتدا نہیں کرسکتا اور اگر یہ دورانِ نماز