خاص ہونے کی وجہ سے یہ اِستثناء مُنْقَطع ہے، اسی لئے امام زَیْلَعی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے فرمایا: مناسب ہے کہ یوں کہا جائے کہ اگر اس رکھی ہوئی چیز پر سجدہ کرنا درست ہے تو وہ سجدہ ہے ورنہ اشارہ۔۔۔ اھ۔ اسی پر شرح منیہ میں جزم فرمایا، اور نہر میں علامہ زیلعی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی اس عبارت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ میرے نزدیک اس میں نظر ہے کیونکہ رکوع کے لئے پست ہونا اشارہ ہی ہے اور یہ بات بھی مخفی نہیں کہ رکوع کے بغیر سجدہ درست نہیں اگرچہ وہ ایسی چیز پر کیا جائے کہ جس پر سجدہ کرنا صحیح ہو۔۔۔ اھ۔
(یعنی جب رکوع کرنا حقیقتاً نہ پایا گیا اس کا اشارہ ہی مُتَحَقَّق ہے تو سجدہ کے بارے میں یہ تفصیل کرنا کہ ’’موضوع علی الارض‘‘ اگر ایسی چیز ہے کہ اس پر سجدہ ہوسکتا ہے تو سجدہ درست نہیں کہ حقیقتاً رکوع کے بغیر حقیقتاً سجدہ نہیں پایا جاتا اگرچہ وہ چیز ایسی ہو کہ اس پر سجدہ کرنا درست ہو۔ فضیل رضا )
مزید علامہ شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی اپنی تحقیق درج فرماتے ہیں کہ ’’اقول الحق التفصیل و ھو انہ ان کان رکوعہ بمجرد ایماء الرأس من غیر انحناء و میل الظھر فھذا ایماء لا رکوع فلا یعتبر السجود بعد الایماء مطلقًا و ان کان مع الانحناء کان رکوعًا معتبرًا حتی انہ یصح من المتطوع القادر علی القیام فحینئذ ینظر ان کان الموضوع مما یصح السجود علیہ کحجر مثلًا ولم یزد ارتفاعہ علی قدر لبنۃ اولبنتین فھو سجود حقیقی فیکون راکعًا ساجدًا لا مومئًا حتی انہ یصح اقتداء