قیام پر قادر ہوجائے تو نماز دوبارہ نئے سرے سے پڑھے گا، بلکہ میرے لئے تو یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ اگر کوئی شخص زمین پر ایسی چیز کہ جس پر سجدہ صحیح ہو رکھ کر سجدہ کرسکتا ہے تو اس پر ایسا کرنا لازم ہے کہ یہ شخص حقیقتاً رکوع و سجود پر قادر ہے اور ان پر قادر ہوتے ہوئے اشارہ کرنا درست نہیں ہوتا کہ اشارہ کی اجازت رکوع وسجود دونوں کے تعذر کے وقت ہے جیسا کہ مسئلہ کا موضوع ہی یہ ہے۔(1)
حاصل یہ کہ علامہ شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی کی اس تحقیق ِاَنیق سے جو قولِ فیصل کا درجہ رکھتی ہے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حدیث شریف کی ’’نہی‘‘ اس پر محمول ہے کہ جب کوئی چیز نمازی کے یا کسی دوسرے کے ہاتھ میں بلند ہو اور اس پر نمازی سر رکھے نہ کہ زمین پر رکھی ہوئی چیز پر۔ یونہی ’’دُر‘‘ کی وَہْم میں ڈالنے والی عبارت ’’الا ان یجد قوۃ الارض‘‘ سے پیدا ہونے والے اس مفہوم کو کہ ’’فلا یرفع‘‘ کہنا زمین پر رکھی ہوئی بلند چیز کو بھی شامل ہے، خلافِ مُتَبَادِر قرار دینا اور مفہومِ متبادر کی صراحت کرنا کہ مُصَلِّی کے اپنے ہاتھ میں یا دوسرے کے ہاتھ میں کوئی چیز مرفوع ہونا ہی ’’یرفع‘‘ کا محمل ہے، اس سے بخوبی ظاہر ہوجاتا ہے کہ زمین پر رکھی ہوئی کسی چیز پر سر رکھنا اس ’’نہی‘‘ کی بناء پر مکروہِ تحریمی و گناہ نہیں ہے، اگر بارہ اُنگل تک اونچی چیز ہو تو اس پر سجدہ کرنا سجدۂ حقیقی ہی کہلاتا ہے جب تک اس پر قدرت ہو اشارہ کرنا کفایت نہیں کرتا نماز نہیں ہوتی اور اس سے اونچی چیز جیسا کہ کرسی کے ساتھ لگے ہوئے تختہ ہوتے ہیں اس پر سر رکھنا اشارہ کرنے ہی کے زُمرے میں آتا ہے اگرچہ اشارہ کرنے والے کو اس طرح کرنا نہیں چاہئے مگر