Brailvi Books

کرسی پر نماز پڑھنے کے اَحکام
32 - 37
فرمایا۔۔۔ اھ۔ (یہ نقل کرنے کے بعد علامہ شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی فرماتے ہیں :) تو صاحب ذخیرہ کا اس صورت کو صورتِ اول کے مقابل ذکر کرنا پھر حدیث ِاُمِّ سلمہ سے اِستدلال کرنے کا مفاد یہ ہے کہ زمین پر رکھی ہوئی کسی بلند چیز پر سجدہ کرنا مکروہ نہیں  ہے، پھر اسی بات کی تصریح میں  نے قُہُسْتانی میں  بھی ملاحظہ کی (جو مجمع الانہر کے حوالے سے میں  نے اوپر ذکر کی ہے۔ فضیل رضا)۔
	اور ’’دُر‘‘ کی عبارت ’’الا ان یجد قوۃ الارض‘‘ کے تحت علامہ شامی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے فرمایا: ’’ہذا الاستثناء مبنی علی أن قولہ: ولا یرفع إلخ شامل لما إذا کان موضوعًا علی الأرض وہو خلاف المتبادر بل المتبادر کون المرفوع محمولًا بیدہ أو ید غیرہ، وعلیہ فالاستثناء منقطع لاختصاص ذٰلک بالموضوع علی الأرض ولذا قال الزیلعی: کان ینبغی أن یقال إن کان ذٰلک الموضوع یصح السجود علیہ کان سجودًا و إلا فإیماء ا ھـ وجزم بہ فی شرح المنیۃ. واعترضہ فی النہر بقولہ وعندی فیہ نظر لأن خفض الرأس بالرکوع لیس إلا إیماء و معلوم أنہ لا یصح السجود بدون الرکوع ولو کان الموضوع مما یصح السجود علیہ.اھـ.‘‘
	یعنی یہ اِستثناء اس صورت پر مبنی ہے کہ متن کی عبارت ’’ولایرفع‘‘ زمین پر رکھی ہوئی چیز پر سجدہ کرنے کی صورت کو بھی شامل ہو جبکہ یہ خلاف ِ متبادر ہے، بلکہ متبادر صورت یہ ہے کہ وہ بلند چیز کہ جس پر سجد ہ کیا ہے خود نمازی کے یا کسی اور شخص کے ہاتھ میں  بلند ہو اور اس تقدیر پر زمین پر رکھی ہوئی چیز کے ساتھ اس کے