اذا کان یحمل الی وجھہ شیئًا یسجد علیہ بخلاف ما اذا کان موضوعًا علی الارض یدل علیہ ما فی الذخیرۃ حیث نقل عن الاصل الکراھۃ فی الاول، ثم قال: فان کانت الوسادۃ موضوعۃ علی الارض وکان یسجد علیہا جازت صلاتہ قد صح ان ام سلمۃ کانت تسجد علی مرفقۃ موضوعۃ بین یدیہا لعلۃ کانت بھا ولم یمنعھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ذٰلک اھـ فان مفاد ھٰذہ المقابلۃ والاستدلال عدم الکراھۃ فی الموضوع علی الارض المرتفع ثم رأیت القھستانی صرح بذٰلک‘‘ یعنی بحر میں فرمایا کہ محیط میں اس کراہت پر نبی ِمکرم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نہی کی بناء پر اِستدلال کیا گیا ہے اور وہ نہی کراہت ِتحریمی پر دلالت کرتی ہے۔۔۔ اھ۔ اور نہر الفائق میں بھی اسی کی پیروی کی ہے۔ علاّمہ شامی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ فرماتے ہیں کہ ’’میں کہتا ہوں ‘‘ کہ کراہت اس صورت پر محمول ہے کہ جب سجدہ کے لئے کوئی چیز پیشانی کی طرف اُٹھائی جائے، برخلاف اس صورت کے کہ جب وہ چیز زمین پر رکھی ہو (اس صورت میں یہ کراہت نہیں ہے) ذخیرہ کی عبارت بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہے چنانچہ انہوں نے پہلی صورت کے متعلق ’’اصل‘‘ سے کراہت کا قول اسی پہلی صورت کے بارے میں نقل کیا اور پھر فرمایا: ’’تو اگر تکیہ زمین پر رکھا ہوا ہو اور مریض اس پر سجدہ کرے تو نماز درست ہوجائے گی کہ صحیح حدیث میں ہے کہ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیماری کی وجہ سے سامنے زمین پر رکھے ہوئے تکیہ پر سجدہ فرماتی تھیں اور نبی ِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں اس سے منع نہیں