کے ہاتھ سے لکڑی پکڑ لی اور فرمایا یہ چیز تمہیں شیطان نے پیش کی ہے بس تم اشارے سے ہی سجد ہ کرو۔اسی طرح حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کسی کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: کیا تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو خدا ٹھہراتے ہو۔ اور محیط میں اس کراہت پر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے منع فرمانے سے اِستدلال کیا گیا ہے اورآپ کاوہ فرمان کراہت ِتحریمی پر دلالت کرتا ہے۔(1)
علاّمہ فہامہ علاؤ ُالدین حَصْکَفی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ بھی دُرِّ مختار میں فرماتے ہیں : ’’(ولا یرفع الی وجھہ شیئًا یسجد علیہ) فإنہ یکرہ تحریمًا (فإن فعل) بالبناء للمجہول ذکرہ العینی (وہو یخفض برأسہ لسجودہ أکثر من رکوعہ صح) علی أنہ إیماء لا سجود إلا أن یجد قوۃ الأرض‘‘ یعنی اپنی پیشانی کی طرف سجدہ کرنے کے لئے مریض کوئی چیز نہیں اُٹھائے گا کیونکہ ایسا کرنا مکروہِ تحریمی ہے، پھر اگر سجدہ کے لئے کوئی چیز اُٹھائی گئی (مجہول کا صیغہ ہے جیسا کہ علامہ عینی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اسے ذکر فرمایا ہے) تو اگر رکوع کی بنسبت سجدہ کے لئے زیادہ پست ہوا تھا تو نماز درست ہوئی مگر یہ اشارہ ہی قرار پائے گا (حقیقی سجدہ نہیں ) اِلاَّ یہ کہ اس چیز سے زمین کی طرح سختی محسوس ہو (کہ اب یہ حقیقی سجدہ ہے)۔(2)
’’دُر‘‘ کی عبارت ’’یکرہ تحریمًا‘‘ کے تحت رَدُّالمحتار میں ہے: ’’قال فی البحر واستدل للکراھۃ فی المحیط بنھیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام عنہ وھو یدل علی کراھۃ التحریم اھـ وتبعہ فی النھر اقول: ھذا محمول علی ما
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بحر الرائق شرح کنز الدقائق، ۲ / ۲۰۰۔
2…در مختار مع رد المحتار، ۲ / ۶۸۵، ۶۸۶۔