Brailvi Books

کرسی پر نماز پڑھنے کے اَحکام
29 - 37
لئے گئے آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اسے دیکھا کہ وہ سامنے تکیہ رکھ کر نماز پڑھ رہاہے آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اس سے تکیہ لے کر پھینک دیا۔ اس نے ایک لکڑی لے لی۔ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اس لکڑی کو بھی لے کر پھینک دیا اور ارشاد فرمایا کہ سجدہ زمین پر کرو اگر اِستطاعت ہے ورنہ اشارے سے پڑھو اور سجدہ کرنے میں  رکوع سے زیادہ جھکو۔(1)
	اسی میں  بحوالہ قُہُسْتانی مذکورہے کہ ’’ لو سجد علی شیٔ مرفوع موضوع علی الأرض لم یکرہ۔‘‘ یعنی اگر کسی ایسی بلند چیز پر سجدہ کیا جو زمین پر رکھی ہوئی ہے تو مکروہ نہیں۔(2)
	علامہ ابن نُجَیم مصری حنفی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بحرالرائق میں  نقل فرماتے ہیں : ’’روی ان عبد اللہ بن مسعود دخل علی اخیہ یعودہ فوجدہ یصلی ویرفع الیہ عود فیسجد علیہ فنزع ذٰلک من ید من کان فی یدہ وقال ھٰذا شیٔ عرض لکم الشیطان اوم بسجودک وروی ان ابن عمر رأی ذٰلک من مریض فقال اتتخذون مع اللہ الھۃ و استدل للکراھۃ فی المحیط بنھیہ علیہ السلام عنہ وھو یدل علی کراھۃ التحریم۔‘‘ یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں  مروی ہے کہ آپ اپنے بھائی کی عیادت کرنے کے لئے گئے تو ان کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ کوئی شخص ان کی طرف لکڑی بڑھاتا ہے اوروہ اس پر سجدہ کرتے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر، ۱ / ۲۲۸۔
2…مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر، ۱ / ۲۲۸۔