Brailvi Books

کرسی پر نماز پڑھنے کے اَحکام
28 - 37
پایا گیا اس لئے ان کی نماز ہوجاتی ہے جبکہ حقیقی سجدہ پر قادر حضرات کا ایسا کرنا واضح طور پر ناجائز ہے، ان کی نمازیں  اس سے برباد ہوتی ہیں۔ 
	یاد رہے کہ جو مسئلہ حدیث شریف ا ور فقہی جُزئِیَّات میں  مذکور ہے کہ نمازی کا کوئی چیز اُٹھاکر سجدہ کرنا یا دوسرے کا اس کے لئے اُٹھانا مکروہِ تحریمی ہے اس کا کرسی کی تختی سے کوئی تعلق نہیں کہ وہ خود اس کے ہاتھ میں  یا کسی اور کے ہاتھ میں  اس کے لئے بلند نہیں  ہوتی بلکہ زمین پر رکھی کرسی کے ساتھ ہی لگی ہوتی ہے، اگر کوئی کرسی کی تختی پر سر رکھے گا تو اس بناء پر ا سے مکروہِ تحریمی قرار دینا درست نہیں  ہے۔
	 چنانچہ ’’ملتقی الابحر‘‘ میں  ہے: ’’ولا یرفع إلی وجھہ شیئًا للسجود۔‘‘ یعنی معذور شخص سجدہ کرنے کیلئے اپنے چہرے کی طرف کسی چیز کو بلند نہیں  کرے گا۔(1)
	اس کے تحت علامہ عبد الرحمن بن محمد کلیبولی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ ایک روایت نقل کرتے ہیں : ’’أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم عاد مریضًا فراٰہ یصلی علی و سادۃ فأخذھا فرمی بھا، وأخذ عودًا لیصلی علیہ فأخذہ فرمی بہ، وقال صل علی الأرض إن استطعت و إلا فأوم و اجعل سجودک أخفض من رکوعک۔‘‘ یعنی نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک بیمار شخص کی عیادت کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ملتقی الابحر مع شرحہ مجمع الانہر، ۱ / ۲۲۸۔