ساتھ ان پر نمبر ڈال دئیے ہیں ، صرف ان گیارہ مسائل کو اگر تکرار کے ساتھ سمجھ کر ذہن نشین کرلیا جائے توبیٹھ کر یا اشاروں سے نماز پڑھنے والوں پر ان کی نمازوں کا حکم صاف ظاہر ہوجائے گابلکہ جو مریض و مجبور نہیں ہیں انہیں بھی ان مسائل کو سیکھ لینا چاہئے کہ کبھی خود بھی ان کی ضرورت پڑ سکتی ہے ورنہ دوسرے مسلمان مریضوں کی حتی الامکان شرعی رہنمائی کے حوالے سے کام آئیں گے۔
کرسی کے آگے لگی ہوئی تختی پر سر رکھ کر سجدہ کرنے کا حکم
کرسی کے آگے سجدے کیلئے ٹیبل نما تختی جو لگی ہوتی ہے کرسی پر بیٹھنے والے اس پر سر جما کر سجدہ کرلیتے ہیں ان کا یہ طریقہ درست نہیں کیونکہ یہ حقیقتاً سجدہ نہیں بلکہ سجدے کا اشارہ ہے۔ اور اشارہ سر سے کرنا ہوتا ہے اس کے ساتھ کمر جھکانا ضروری نہیں ، رکوع کے اشارے میں سر کو جھکائیں اور سجدے کے اشارے میں اس سے زیادہ جھکائیں ، تو کرسی کے ساتھ لگی تختی پر سر رکھنا بالکل غیر ضروری ہے اور عام طور پر وہ لوگ ایسا کرتے ہیں جو مریض کی نماز پڑھنے کے ضروری مسائل سے واقف نہیں ہوتے انہیں نرمی کے ساتھ سمجھا دیاجائے کہ وہ ایسا نہ کریں۔
اور حقیقتاً سجدہ جن پر کرنا ضروری ہوتا ہے ان کا اس تختی پر سر رکھنے کو کافی سمجھنا اعلیٰ درجے کی جہالت ہے، ان کی نماز ہی نہیں ہوتی ہے، کرسی کی تختی پر سر رکھنے سے حقیقتاً سجدہ ادا نہیں ہوتا، جب سجدہ ادا نہیں ہوتا تو نمازبھی نہیں ہوتی، سجدہ زمین پر یا زمین پر رکھی ہوئی کسی ایسی چیز پر جس کی بلندی بارہ اُنگل سے زیادہ نہ ہو کیا جائے تو حقیقی سجدہ ادا ہوتا ہے، اس پر قادر نہ ہو تو قیام بھی اصلاً ساقط ہوجاتا
ہے، رکوع و سجود کے اشارے کرنے ہوتے ہیں جیسا کہ اس حوالے سے کافی تفصیل اوپر گزر چکی۔
لہٰذا سجدہ کا اشارہ کرنے والوں کا کرسی کی تختی پر سر رکھنا لغوو بے جا ہے مگر چونکہ اشارہ