Brailvi Books

کرسی پر نماز پڑھنے کے اَحکام
25 - 37
پڑھنے سے ضَرَر (1)لاحق ہوگا یا مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں  اچھا ہوگا یا چکر آتا یا کھڑے ہوکر پڑھنے سے قطرہ آئے گا یا بہت شدید درد ناقابل برداشت پیدا ہوجائے گا تو ان سب صورتوں  میں  بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھے۔
(6)اگر اپنے آپ بیٹھ بھی نہیں  سکتا مگر لڑکا یا غلام یا خادم یا کوئی اجنبی شخص وہاں  ہے کہ بٹھا دے گا تو بیٹھ کر پڑھنا ضروری ہے اور اگربیٹھا نہیں  رہ سکتا تو تکیہ یا دیوار یا کسی شخص پر ٹیک لگا کر پڑھے یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹ کر پڑھے اور بیٹھ کر پڑھنا ممکن ہو تو لیٹ کر نماز نہ ہوگی۔
(7)بیٹھ کر پڑھنے میں  کسی خاص طور پر بیٹھنا ضروری نہیں  بلکہ مریض پر جس طرح آسانی ہو اس طرح بیٹھے۔ ہاں  دو زانو بیٹھنا آسان ہو یا دوسری طرح بیٹھنے کے برابر ہو تو دو زانو بہتر ہے ورنہ جو آسان ہو اختیار کرے۔ 
(8)کھڑا ہو سکتا ہے مگر رکوع و سجود نہیں  کر سکتا یا صرف سجدہ نہیں  کرسکتا مثلاً حَلْق وغیرہ میں  پھوڑا ہے کہ سجدہ کرنے سے بہے گا تو بھی بیٹھ کر اشارہ سے پڑھ سکتا ہے بلکہ یہی بہتر ہے اور اس صورت میں  یہ بھی کرسکتا ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے اور رکوع کے لیے اشارہ کرے یا رکوع پر قادر ہو تو رکوع کرے پھر بیٹھ کر سجدہ کے لیے اشارہ کرے۔ 
(9)اشارہ کی صورت میں  سجدہ کا اشارہ رکوع سے پست ہونا ضروری ہے (سجدے کے لئے زیادہ سر نہ جھکایا تو اشارے سے سجدہ ادا ہی نہ ہوگا نماز بھی نہ ہوگی) مگر یہ ضرور نہیں  کہ سر کو بالکل زمین سے قریب کر دے سجدہ کے لئے تکیہ وغیرہ کوئی چیز پیشانی کے قریب اُٹھاکر اس پر سجدہ کرنا مکروہِ تحریمی (گناہ) ہے خواہ خود اسی نے وہ چیز اُٹھائی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…نقصان۔