Brailvi Books

کرسی پر نماز پڑھنے کے اَحکام
24 - 37
(3)کھڑے ہونے سے محض کچھ تکلیف ہونا عذر نہیں ،بلکہ قیام اس وقت ساقط ہوگا کہ کھڑا نہ ہو سکے یا سجدہ نہ کر سکے یا کھڑے ہونے یا سجدہ کرنے میں  زخم بہتا ہے یا کھڑے ہونے میں  قطرہ آتا ہے یا چوتھائی سَتْر ُکھلتا ہے یا قراء ت سے مجبورِ محض ہو جاتا ہے۔ یوہیں  کھڑا ہوتوسکتا ہے مگر اس سے مرض میں  زیادتی ہوتی ہے یا دیر میں  اچھا ہو گا یا ناقابلِ برداشت تکلیف ہو گی، تو بیٹھ کر پڑھے۔
(4)اگر عصا یا خادم یا دیوار پر ٹیک لگا کر کھڑا ہو سکتا ہے، تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر پڑھے۔ اگر کچھ دیر بھی کھڑا ہو سکتا ہے اگرچہ اتنا ہی کہ کھڑا ہو کر اللہُ اَکْبَر کہہ لے، تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر اتنا کہہ لے پھر بیٹھ جائے۔
	تنبیہ ضروری ’’آج کل عموماً یہ بات دیکھی جاتی ہے کہ جہاں  ذَرا بخار آیا یا خفیف سی تکلیف ہوئی بیٹھ کر نماز شروع کر دی، حالانکہ وہی لوگ اسی حالت میں  دس دس پندرہ پندرہ منٹ بلکہ زیادہ کھڑے ہو کر اِدھر اُدھر کی باتیں  کر لیا کرتے ہیں  ان کو چاہیے کہ ان مسائل سے متنبہ ہوں  اور جتنی نمازیں  باوجودِ قدرتِ قیام بیٹھ کر پڑھی ہوں  ان کا اِعادہ فرض ہے۔ یوہیں  اگر ویسے کھڑا نہ ہوسکتا تھا مگر عصاء یا دیوار یا آدمی کے سہارے کھڑا ہونا ممکن تھا تو وہ نمازیں  بھی نہ ہوئیں  ان کا پھیرنا فرض۔‘‘(1)
	بہارِ شریعت میں  ’’مریض کی نماز کے بیان ‘‘میں  بھی اس حوالے سے ضروری مسائل درج ہیں  چند منتخب مسائل ملاحظہ ہوں :
(5)جو شخص بوجہ بیماری کے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے پر قادر نہیں  کہ کھڑے ہوکر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بہارِ شریعت، حصہ۳، ۱ / ۵۱۰، ۵۱۱۔