تبیین الحقائق میں ہے: ’’لو قدر علی القیام متکئًا (قال الحلوانی) الصحیح انہ یصلی قائمًا متکئًا ولا یجزیہ غیر ذٰلک وکذٰلک لو قدر ان یعتمد علی عصا او علی خادم لہ فانہ یقوم ویتکیٔ‘‘ اگر سہارے سے قیام کرسکتا ہو (حلوانی نے کہا) تو صحیح یہی ہے کہ سہارے سے کھڑے ہو کر نماز ادا کرے اس کے علاوہ کفایت نہ کریگی اور اسی طرح اگر عصا یا خادم کے سہارے سے کھڑا ہوسکتا ہے تو قیام کرے اور سہارے سے نماز ادا کرے۔(ت)
یہ سب مسائل خوب سمجھ لئے جائیں باقی اس مسئلہ کی تفصیلِ تام(1) و تحقیق ہمارے فتاویٰ میں ہے جس پر اطلاع نہایت ضرور واَہم کہ آجکل ناواقفی سے جاہل بعض مدعیانِ علم بھی ان احکام کا خلاف کرکے ناحق اپنی نمازیں کھوتے اور صراحۃً مرتکب ِگناہ و تارِک الصلوٰۃ ہوتے ہیں۔(2)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ بہارِ شریعت میں ’’فرضیت ِ قیام کے بیان‘‘ میں فرماتے ہیں :
(1)فرض و وتروعیدین و سنّتِ فجر میں قیام فرض ہے کہ بلا عذر ِصحیح بیٹھ کر یہ نماز یں پڑھے گا، نہ ہوں گی۔
(2)اگر اتنا کمزور ہے کہ مسجد میں جماعت کے لئے جانے کے بعد کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکے گا اور گھر میں پڑھے تو کھڑا ہو کر پڑھ سکتا ہے تو گھر میں پڑھے، جماعت میسر ہو تو جماعت سے ورنہ تنہا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مکمل تفصیل۔ 2…فتاویٰ رضویہ، ۶/ ۱۶۰،۱۶۱۔