Brailvi Books

کرسی پر نماز پڑھنے کے اَحکام
22 - 37
کھڑے رہے کہ اُتنی دیر میں  دس بارہ رکعت ادا کرلیتے ایسی حالت میں  ہر گز قعود کی اجازت نہیں  بلکہ فرض ہے کہ پورے فرض قیام سے ادا کریں۔ ’’کافی شرح وافی‘‘ میں  ہے: ’’ان لحقہ نوع مشقۃ لم یجز ترک القیام‘‘ اگر ادنیٰ مشقت لاحق ہو تو ترک ِ قیام جائز نہ ہوگا۔ (ت)
	ثانیاً: مانا کہ انہیں  اپنے تجربۂ سابقہ خواہ کسی طبیب مسلمان حاذِق عادِل مستور الحال(1) غیر ظاہر الفسق(2) کے اِخبار(3) خواہ اپنے ظاہر حال کے نظر ِصحیح سے جو کم ہمتی و آرام طلبی پر مبنی نہ ہو بَظَنِّ غالب معلوم ہے کہ قیام سے کوئی مرضِ جدید یا مرضِ موجود شدید و مدید(4) ہوگا مگر یہ بات طولِ قیام میں  ہوگی تھوڑی دیر کھڑے ہونے کی یقیناً طاقت رکھتے ہیں  تو ان پر فرض تھا کہ جتنے قیام کی طاقت تھی اُتنا ادا کرتے یہاں  تک کہ اگر صرف اللہُ اَکْبَر کھڑے ہو کر کہہ سکتے تھے تو اتنا ہی قیام میں  ادا کرتے جب وہ غلبہ ٔظن کی حالت پیش آتی تو بیٹھ جاتے یہ ابتدا سے بیٹھ کر پڑھنا بھی ان کی نماز کا مفسد ہوا۔
	ثالثاً: ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ بقدرِ تکبیر بھی کھڑے ہونے کی قوت نہیں  رکھتا مگر عصا کے سہارے سے یا کسی آدمی خواہ دیوار یا تکیہ لگا کر کل یا بعض قیا م پر قادر ہے تو اس پر فرض ہے کہ جتنا قیام اس سہارے یا تکیہ کے ذریعے سے کرسکے بجالائے، کل تو کل یا بعض تو بعض ورنہ صحیح مذہب میں اس کی نماز نہ ہوگی ’’فقد مر من الدر ولو متکئًا علی عصا او حائط‘‘ (دُر کے حوالے سے گزرا اگرچہ عصا یا دیوار کے سہارے سے کھڑا ہوسکے۔ ت)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جس کا نیک یا بد ہونا لوگوں پرظاہر نہ ہو۔        3…بتانا۔
2…جس کا فسق ظاہر نہ ہو۔                       4…طویل۔