Brailvi Books

کرسی پر نماز پڑھنے کے اَحکام
21 - 37
	اسی میں  ’’صَلٰوۃُ الْمَرِیْض‘‘ کے باب میں  ایک مسئلہ کی تحقیق کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’ان کان الموضوع مما یصح السجود علیہ کحجر مثلًا ولم یزد ارتفاعہ علی قدر لبنۃ اولبنتین فھو سجود حقیقی۔۔۔۔۔۔۔ بل یظہر لی أنہ لو کان قادرًا علی وضع شیٔ علی الأرض مما یصح السجود علیہ أنہ یلزم ذلک‘‘ کہ اگر وہ زمین پر رکھی چیز ایسی ہے کہ جس پر سجدہ کرنا درست ہے مثلاً پتھر پر کیا اور وہ ایک یا دو اینٹوں  سے زیادہ بلند بھی نہیں  تو اس پر کیا جانے والا سجدہ حقیقی سجدہ ہے۔۔۔۔۔ بلکہ میرے لئے تو یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ اگر کوئی شخص زمین پر ایسی چیز کہ جس پر سجدہ صحیح ہو رکھ کر سجدہ کرسکتا ہے تو اس پر ایسا کرنا لازم ہے۔(1)
	امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیْہِرَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ اپنے ایک تحقیقی فتوے میں  فرضیت ِقیام میں  کوتاہی کرنے والوں  کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’آج کل بہت جہال(2) ذَرا سی بے طاقتی ٔمرض یا کِبَرِ سِن(3) میں  سرے سے بیٹھ کر فرض پڑھتے ہیں  حالانکہ اولاً ان میں  بہت ایسے ہیں  کہ ہمت کریں  تو پورے فرض کھڑے ہوکر ادا کر سکتے ہیں اور اس ادا سے نہ ان کا مرض بڑھے نہ کوئی نیا مرض لاحق ہو نہ گر پڑنے کی حالت ہو نہ دورانِ سَر(4) وغیرہ کوئی سخت اَلم شدید ہو صرف ایک گونہ(5) مشقت و تکلیف ہے جس سے بچنے کو صراحۃً نمازیں  کھوتے ہیں ہم نے مشاہدہ کیا ہے وہی لوگ جنہوں  نے بحیلۂ ضعف و مرض فرض بیٹھ کر پڑھتے اور وہی باتوں  میں  اتنی دیر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…رد المحتار، ۲ / ۶۸۶۔         3…بڑھاپا۔          5…ایک طرح کی۔
2… یعنی نا واقف لوگ۔            4… سَر گھومنا/چکرانا۔