Brailvi Books

کرسی پر نماز پڑھنے کے اَحکام
20 - 37
ہیں : ’’فلو عجز عنہ حقیقۃً وھو ظاہر او حکمًا کما لو حصل لہ بہ الم شدید او خاف زیادۃ المرض وکالمسائل الآتیۃ فی قولہ ’’وقد یتحتم القعود۔۔۔الخ‘‘ فانہ یسقط وقد یسقط مع القدرۃ علیہ فیما لو عجز عن السجود کما اقتصر علیہ الشارح تبعًا للبحر و یزداد مسالۃ اخری وھی الصلاۃ فی السفینۃ الجاریۃ فانہ یصلی فیھا قاعدًا مع القدرۃ علی القیام عند الامام‘‘ یعنی اگر کوئی شخص حقیقتاً قیام سے عاجز ہو اور یہ صورت ظاہر ہے یا حکماً عاجز ہو جیسے قیام کی وجہ سے اسے شدید درد ہوگا یا مرض بڑھ جانے کا خوف ہے اسی طرح ’’دُر‘‘ کی عبارت ’’وقد یتحتم‘‘ میں  جو صورتیں  آرہی ہیں  تو وہ بھی عجز ِحکمی میں  داخل ہیں  ان صورتوں  میں  بھی قیام ساقط ہوجائے گا، اور کبھی قیام پر قدرت کے باوجود بھی قیام ساقط ہوجاتا ہے جیسا کہ سجدہ سے عاجز ہونے کی صورت میں  قیام ساقط ہوجاتا ہے، شارح عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے ’’بحر‘‘ کی اتباع میں  صرف اسی پر اقتصار کیا ہے اور اس پر ایک دوسرا مسئلہ اضافہ کیا جائے گا وہ چلتی ہوئی کَشْتی میں  نماز ادا کرنے کا ہے کہ اگرچہ قیام پر قادر ہو امام اعظم عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ کے نزدیک بیٹھ کر نماز ادا کرسکتا ہے۔
	اور ’’فلو قدر علیہ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ای علی القیام وحدہ او مع الرکوع کما فی المنیۃ‘‘ یعنی صرف قیام پر قادر ہو یا قیام کے ساتھ رکوع پر بھی قادرہو (بہر صورت حکم ایک ہے کہ جب سجدہ سے عاجز ہے تو قیام ساقط ہوجائیگا) جیسے کہ ’’منیہ‘‘ میں  مذکور ہے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…رد المحتار، ۲ / ۱۶۴۔