فَیُفْلِحَ، لَیْسَ الْجَہْلُ مَحْمُوْدًا فَتُقْبِلَ عَلَیْہِ، اَلْحِلْمُ غَیْرُ مَذْمُوْمٍ فَتَنْفِرَ مِنْہٗ، ملحق بالنفی سے مراد وہ تشبیہ جس سے نفی و انکار مقصود ہو: کَأَنَّکَ رَئِیْسُنَا فَنُطِیْعَکَ! یعنی مَا أَنْتَ رَئِیْسَنَا، اورجوبھی شیء تقلیل یا نفی کا افادہ کرے: قَدْ یَجُوْدُ الْبَخِیْلُ فَیُمْدَحَ، قَلَّمَا تَجْتَہِدُ فَتَنْجَحَ۔ اور طلب سے مرادامر، نہی، استفہام، تمنی، ترجی، عرض اور تحضیض ہے)
خلاصہ: فاء اور واؤ سے سببیت اور معیت مقصودہو تو مابعد فعل منصوب ، عطف مقصود ہوتو معطوف علیہ کے مطابق اور جملہ جدیدہ کا استئناف مقصود ہو(ماقبل سے لفظی اور اعراب تعلق مقصود نہ ہو)تو مرفوع ہوگا: لَا تَأْکُلِ السَمَکَ وَتَشْرَب اللَبَنَمیں اگر اکل ِ سمک اور شرب ِلبن دونوں سے نہی مقصود ہوتوتَشْرَب مجزوم ہوگا؛ کیونکہ اس صورت میں واؤ عطف کے لیے ہوگی، ان کو جمع کرنے سے نہی مقصود ہوتوتَشْرَب منصوب ہوگا؛ کیونکہ اس صورت میں واؤ معیت کے لیے کہلائے گی اور اول سے نہی اور ثانی کی اباحت مقصود ہوتو تَشْرَب مرفوع ہوگا؛ کیونکہ اس صورت میں واؤ استئناف کے لیے قرار پائے گی ۔
(۲۰)…أَيٌّ چونکہ لازم الاضافۃ الی المفرد ہے اس لیے یہ معرب ہے اور اس کا اعراب حرکات ثلاث سے آتاہے: أَيُّ وَلَدٍ یَجْتَہِدْ یَفُزْ، أَيَّ کِتَابٍ تَقْرَأْ أَقْرَأْ، بِأَيِّ قَلَمٍ تَکْتُبْ أَکْتُبْ۔کبھی اس کے مضاف الیہ کو حذف کرکے اس کے عوض تنوین لے آتے ہیں ۔نیز کبھی اس کے ساتھ مَا زائدہ بھی لاحق ہوتاہے: اَیًّا مَّا تَدْعُوۡا فَلَہُ الۡاَسْمَآءُ الْحُسۡنٰی۔اَیَّمَا الْاَجَلَیۡنِ قَضَیۡتُ فَلَا عُدْوٰنَ عَلَیَّ۔