Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
98 - 107
	(۱۷)…یہ اس صورت میں  ہے جبکہ اس کے بعد اسم ہو۔ اوراگر اس کے بعد فعل ہو تو یہ واجب الاہمال ہو گا: وَ اِنۡ کُنۡتُ لَمِنَ السّٰخِرِیۡنَ۔
فائدہ ۱:  إنْ مخففہ کے بعد اگر فعل ہو تو وہ افعال ناسخہ(افعال ناقصہ، افعال مقاربہ، افعال قلوب) ہی میں  سے ہوگا اور غالب طور پریہ فعل ماضی ہوگا: وَ اِنۡ کَانَتْ لَکَبِیۡرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیۡنَ ہَدَی اللہُ،قَالَ تَاللہِ اِنْ کِدۡتَّ لَتُرْدِیۡنِ،وَ اِنۡ وَّجَدْنَاۤ اَکْثَرَہُمْ لَفٰسِقِیۡنَ۔ اور بعض اوقات فعل مضارع بھی ہوتاہے : وَ اِنۡ نَّظُنُّکَ لَمِنَ الْکٰذِبِیۡنَ۔
 فائدہ ۲:  أنْ مخففہ سے پہلے اگر فعل ہو تووہ یقین یا ظنِ غالب پر دال ہوگا:عَلِمَ اَنۡ سَیَکُوۡنُ مِنۡکُمۡ مَّرْضٰی،وَظَنُّوۡۤا اَنۡ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللہِ اِلَّاۤ اِلَیۡہِ۔ 
	(۱۸)…أَنْ کے جوازًا مقدر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے ظاہر کرنا بھی جائز ہے اور وجوبًا مقدر ہونے سے مراد یہ ہے کہ اسے ظاہر کرناجائز نہیں۔خیال رہے کہ لام کَيْ کے بعداگرلَانافیہ یا زائدہ ہوتو أَنْکی تقدیرجائز نہیں  ہوگی بلکہ اس کا اظہار واجب ہوگا: لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللہِ حُجَّۃٌۢ،لِئَلَّا یَعْلَمَ اَہۡلُ الْکِتٰبِ۔ 
	(۱۹)…یہ فاء اور واو اگر سببیت اور معیت کے لیے نہ ہوں  بلکہ ما قبل فعل پر عطف یا استئناف کے لیے ہوں تو ان کے بعدأَنْ  مقدر نہیں  ہوگا اور پہلی صورت میں مابعد فعل معطوف علیہ کے مطابق اور دوسری صورت میں  مرفوع ہوگا:لَا یُؤْذَنُ لَہُمْ فَیَعْتَذِرُوۡنَ،اِنَّمَاۤ اَمْرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْـًٔا اَنْ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوۡنُ، اوراس واو اور فاء کے بعدأَنْ  مقدر ہونے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ یہ نفی ، ملحق بالنفی یا طلب کے جواب میں  واقع ہوں (نفی خواہ حرف سے ہو، فعل سے ہو یا اسم سے: لَمْ یَجْتَہِدْ