Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
100 - 107
	(۲۱)…یہاں چار کا ذکر حصر کے لیے نہیں  ہے؛ کیونکہ ان چار صورتوں کے  علاوہ بھی جزا پر وجوبًا فَ آتی ہے مثلًا جب جزا فعل جامد ہو:اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡکَ مَالًا وَّ وَلَدًا ﴿ۚ۳۹﴾ فَعَسٰی رَبِّیۡۤ اَنۡ یُّؤْتِیَنِ خَیۡرًا مِّنۡ جَنَّتِکَ، یا جزامنفی بذریعہ مَا ہو: فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمْ فَمَا سَاَلْتُکُمۡ مِّنْ اَجْرٍ۔ یا جزا کے شروع میں  کَأَنَّمَا  ہو:اَنَّہٗ مَنۡ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیۡرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الۡاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا۔ یاجزا کے شروع میں  اداۃ شرط آجائے: وَ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکَ اِعْرَاضُہُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنۡ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاۡتِیَہُمۡ بِاٰیَۃٍ۔ یا جزا کے شروع میں   رُبَّ ہو:  اِنْ تَجِیْٔ فَرُبَمَا أَجِیْٔ۔
تنبیہ: خیال رہے کہ جب إِنْ یا إِذَا کا جواب جملہ اسمیہ ہوتو اس پرفاء جزائیہ کے بجائے إِذَافجائیہ بھی آجاتا ہے: اِنۡ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیۡدِیۡہِمْ اِذَا ہُمْ یَقْنَطُوۡنَ۔فَاِذَاۤ اَصَابَ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖۤ اِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُوۡنَ۔
	(۲۲)…خیال رہے کہ ضمیر غیبت وتکلم کی ندا بالاتفاق نا جائز ہے اور ضمیر مخاطب کی ندا کلام عرب میں  شاذ اور نادر الوقوع ہے، ابن عصفور نے اسے صرف شعر میں  مقصور کیا اور ابو حیان نے بالکل اِبا اختیار کیا۔ اور علی سبیل ا لشذوذ جب ضمیر مخاطب کو ندادی جائے تو ضمیر رفع اور ضمیر نصب دونوں  لانا جائز ہیں : یَا أَنْتَ، یَا إِیَّاکَ۔  یہ ضمیرمبنی برضمہ تقدیری اورمحل نصب میں  کہلائے گی جیسے یَا ہٰذَا وغیرہ میں۔
فائدہ:  عرب کے ہاں  نداکا ایک اسلوب ہے جس میں ندا مقصود نہیں  ہوتی بلکہ صرف اختصاص مقصود ہوتاہے: أَنَا أَفْعَلُ کَذَا أَیُّہَا الرَجُلُ یہاں  أَیُّہَا الرَجُلُ