(۱۴)…خیال رہے کہ جوعلَم الف لام کے ساتھ موضوع نہ ہو لیکن اصل میں وہ صفت یا مصدریا ایسا اسم ہوجس کے معنی جنسی سے مدح یا ذم کا قصد کیا جاتا ہے تو اس پر الف لام لانا جائزہے: اَلْحَسَنُ، اَلْفَضْلُ، اَلْأَسَدُ، اَلْکَلْبُ وغیرہ (لکنہ غیر مطرد؛ إذ لا یصح دخول اللام علی محمّد وعليّ) اور اس طرح کے علَم سے الف لام کا جدا ہونا بھی جائزہے۔اورجوعلَم الف لام کے ساتھ موضوع ہو: اَلثُرَیَّا(ثوریعنی بیل کی شکل میں ستاروں کا مجموعہ)، اَلدَبَرَانُ(قمر کی اٹھائیس منازل میں سے ایک منزل کا نام یا ثریا اور جوزاء کے درمیان کا ستارہ)، اَلْعَیُّوْقُ (ثریا کے پیچھے نکلنے والا ستارہ جوجوزاء سے قبل طلوع ہوتاہے) اس سے الف لام جدا نہیں ہوسکتا؛ کیونکہ یہ ایک ہی کلمے کے بعض حروف کی طرح ہے۔
(۱۵)…یعنی اے عاذلہ!(ملامت کرنے والی) مجھ پر ملامت اور عتاب کم کر اور اگر میں کوئی صحیح کام کر جاؤں تو یہ بھی بول کہ اس نے درست کیا۔اس شعر میں ایک اسم (عِتَابٌ) پر الف لام اور تنوین ِترنم دونوں آرہے ہیں اورایک فعل (أَصَابَ) پر تنوین ِترنم آرہی ہے۔
(۱۶)…یاد رہے کہ معرفہ اور نکرہ میں فرق کرنے کیلئے مبنی پر تنوین تنکیر آسکتی ہے: صَہْ(ابھی خاموش رہ) صَہٍ(کبھی خاموش رہ) مَہْ(ابھی چھوڑ) مَہٍ(کبھی چھوڑ) اس کے علاوہ باقی تنوینات اربعہ مبنی پر اصلانہیں آسکتیں اور اگر معرفہ اور نکرہ میں فرق مقصود نہ ہوتومبنی پر تنوین تنکیر بھی نہیں آسکتی۔واللہ سبحانہ وتعالٰی أعلم وعلمہ جلّ مجدہ أتمّ وأحکم۔