Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
96 - 107
نِعْمَ الْعَبْدُ أَیُّوْبُ، نِعْمَ الْمَاہِدُوْنَ نَحْنُ۔
فائدہ:  مخصوص کا حق یہ ہے کہ وہ فاعل کا ہم جنس ہو یعنی فاعل معنی ہوتو مخصوص بھی معنی ہواورفاعل ذات ہوتو مخصوص بھی ذات ہو: نِعْمَ الْعَمَلُ الْاِقْتِصَادُ، بِئْسَ الرَجُلُ الْکَافِرُ۔  لہذا اگر کہیں  مخصوص بظاہر فاعل کا ہم جنس نہ ہو تو وہاں  عبارت بحذف مضاف ہوگی: نِعْمَ صِدْقًا الصِدِّیْقُ یہ اصل میں نِعْمَ صِدْقًا صِدْقُ الصِدِّیْقِ ہوگا۔اسی طرح فرمان باری تعالی: سَآءَ مَثَلَاۨ الْقَوْمُ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا اس کی تقدیریہ ہوگی: سَائَ مَثَلا مَثَلُ الْقَوْمِ۔۔۔ الخ
	(۱۳)…یاد رہے کہ ثلاثی مجرد فعل بر وزن فَعُلَ(بضم العین) انشاء مدح وذم میں نِعْمَاور بِئْسَ کے ساتھ ملحق ہے: کَرُمَ الْفَتَی بَکْرٌ، لَؤُمَ الْخَائِنُ زَیْدٌ، فَہُمَ التِلْمِیْذُ بِلَالٌ، جَہُلَ الرَجُلُ زَہِیْرٌ۔ لیکن یہ مدح یا ذم کے ساتھ ساتھ تعجب کا معنی بھی دیتاہے لہذا یہ فعل تعجب کے ساتھ بھی ملحق ہے یہی وجہ ہے کہ اس پر بعض احکام اُس کے اور بعض احکام اِس کے جاری ہوتے ہیں مثلا :
	فَعُلَ کا فاعل نِعْمَاور بِئْسَ کے فاعل کی طرح یا تواسم ظاہر معرف باللام ہو گا: عَقُلَ الْفَتَی عَلِيٌّ۔ یا ضمیر مستتر ہوگا جس کی تمییز نکرہ منصوبہ سے آئے گی: ہَدُوَ رَجُلًا خَالِدٌ۔(البتہ اس کے فاعل کا الف لام سے خالی ہونا بھی جائزہے: خَطُبَ بَکْرٌ۔ حالانکہ نِعْمَ اور بِئْسَ کے فاعل میں  یہ جائز نہیں  )
	اور جس طرح أَفْعِلْ بِہٖ میں  فاعل باء زائدہ کی وجہ سے لفظًامجرور ہوتاہے اسی طرح فَعُلَکا فاعل بھی باء زائدہ کی وجہ سے لفظًا مجرور آسکتاہے: شَجُعَ بِخَالِدٍ۔