Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
95 - 107
	(۱۱)…خیال رہے کہدَرَی، أَلْفَی(بمعنی عَلِمَ)، تَعَلَّمْ(بمعنی اِعْلَمْ)  جَعَلَ، عَدَّ، حَجَا(بمعنی ظَنَّ)، ہَبْ(بمعنی ظُنَّ)  افعال قلوب سے مُلحق ہیں :وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِکَۃَ الَّذِیۡنَ ہُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنٰثًا، تَعَلَّمُوْا أَنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِأَعْوَرَ، أَلْفَیْتُ قَوْلَکَ صَوَابًا۔ قال الشاعر:
فَقُلْتُ أَجِرْنِيْ أَبَا خَالِدٍ	۞	  وَإلَّا فَہَبْنِي امْرَئً ا ہَالِکًا
(میں  نے کہا اے ابو خالد! مجھے پناہ دے ورنہ سمجھ لے کہ میں  ہلاک ہوگیا)
 تنبیہ: افعال قلوب کے دونوں  یا کسی ایک مفعول کو اقتصارًا (بلا قرینہ)حذف کردینا جائز نہیں  اختصارًا (مع قرینہ)حذف کرناجائز ہے: اَیۡنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیۡنَ کُنۡتُمْ تَزْعُمُوۡنَ یعنی تَزْعَمُوْنَہُمْ شُرَکَائِيْ، مَنْ یَسْمَعْ یَخَلْیعنی یَخَلْ مَا یَسْمَعُہٗ حَقًّا، اسی طرح کوئی پوچھے: ہَلْ تَظُنُّ أَحَدًا مُسَافِرًا اور جواب میں  کہا جائے:  أَظُنُّ خَالِدًا یعنی أَظُنُّ خَالِدًا مُسَافِرًا۔
 فائدہ: سات افعال اور ہیں  جنہیں  افعال تصییر یا افعال تحویل کہا جاتاہے : صَیَّرَ، رَدَّ، تَرَکَ، تَخِذَ، اِتَّخَذَ، جَعَلَ اور وَہَبَ ۔ یہ افعال بھی افعال قلوب کی طرح دو ایسے مفعولوں  کو نصب دیتے ہیں  جو اصل میں  مبتدا اور خبر ہوتے ہیں : وَدَّ کَثِیۡرٌ مِّنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوۡنَکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ اِیۡمٰنِکُمْ کُفَّارًا،وَ تَرَکْنَا بَعْضَہُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوۡجُ فِیۡ بَعْضٍ،وَاتَّخَذَ اللہُ اِبْرٰہِیۡمَ خَلِیۡلًا،وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا، تَخِذْتُکَ صَدِیْقًا۔
	(۱۲)… قرینہ پائے جانے کی صورت میں  اس مخصوص کو حذف کردینا بھی جائز ہے: نِعْمَ الْعَبْدُ ؕ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ،وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰہَا فَنِعْمَ الْمٰہِدُوۡنَ۔ یعنی