سے مختلف ہیں کہ بعض ہلکے اور بعض زیادہ ہلکے ہوں ۔
(۹)…اضافت کی ایک چوتھی قسم بھی ہے اضافت بمعنی کاف جسے اضافت تشبیہیہ بھی کہ سکتے ہیں یعنی وہ اضافت جس میں مضاف مشبہ بہ اور مضاف الیہ مشبہ ہو: أَمْطَرَتْ لُؤْلُؤَ الدَمْعِ عَلٰی وَرْدِ الْخَدِّ، جَرَی ذَہَبُ الْأَصِیْلِ عَلَی لُجَیْنِ الْمَاءِ۔ ان مثالوں میں مضاف (لؤلؤ، ورد، ذہب، لجین) مشبہ بہ اور مضاف الیہ (الدمع، الخد، الأصیل، الماء) مشبہ ہیں۔(الجامع: ۳/۲۰۶)
(۱۰)…لہذا اس صورت میں اگر مضاف کو معرفہ لانا مقصود ہو تو اس پر الف لام لے آتے ہیں۔ فائدہ: بعض اوقات مضاف ٗ مضاف الیہ سے تذکیر یا تانیث بھی حاصل کرتاہے :یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیۡرٍ مُّحْضَرًا، شَمْسُ الْعَقْلِ یَنْکَسِفُ بِطَوْعِ الْہَوَی۔ قال الشاعر:
أَمُـرُّ عَـلَی الدِیَارِ دِیَارِ لَیْـلٰی ۞ أُقَبِّلُ ذَا الْجِدَارَ وَذَا الْجِدَارَ
وَمَا حُبُّ الدِیَارِ شَغَفْنَ قَلْبِيْ ۞ وَلٰکِنْ حُبُّ مَنْ سَکَنَ الدِیَارَ
(میں دیار لیلی پر گذرتاہوں تو کبھی اِس دیوار کو چومتا ہوں اور کبھی اُس دیوار کو، اِن گھروں کی محبت نے میرے دل میں گھر نہیں کیا بلکہ اِن گھروں میں رہنے والے کی محبت نے )
لیکن اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ مضاف کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کی جگہ رکھنا درست ہو ورنہ خودمضاف ہی کی تذکیر یا تانیث کی رعایت لازم ہوگی: جَائَ غُلَامُ فَاطِمَۃَ، سَافَرَتْ أَمَۃُ زَیْدٍ۔ یہاں جَائَ تْ غُلَامُ فَاطِمَۃَیا سَافَرَ أَمَۃُ زَیْدٍ نہیں کہ سکتے ؛ کیونکہ مضاف کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام بنانا درست نہیں ؛ لفساد المعنی۔