پر دلالت کررہا ہے جو معنی مصدری سے حدوثی طورپر متصف ہے ۔ اور ثبوت جبکہ حدوث کے مقابل ہے تو اس کا معنی یہ ہوگاکہ اتصاف بالمعنی میں کسی زمانے کا اعتبار نہ ہو۔ولایخفی أن عدم الاعتبار لیس باعتبار العدم فلا تغفل۔ نہ یہ کہ وہ معنی اُس سے کبھی جداہی نہ ہوسکے جیسے زَیْدٌ کَرِیْمٌ کا معنی ہے : زید سخی ہے لیکن یہاں اس پر دلالت نہیں کہ زید نے سخاوت کی یاوہ سخاوت کرتاہے یا وہ سخاوت کرے گا بلکہ قطع نظر عن الزمان صرف زید کے اتصاف بالکرم کا بیان ہے۔ ہاں ! اتنا ہے کہ صفت مشبہہ جس معنی پر دلالت کرتی ہے وہ عادی اور جبلی ہوتا ہے اور تادیر موصوف کے ساتھ قائم رہتاہے لیکن صفت مشبہہ کے مدلول ثبوت ودوام کی تفسیر اس سے کرنا درست نہیں ۔ہذا ما ظہر للعبد الضعیف المفتقر إلی رحمۃ ربّہ المقتدر والعلم بالحقّ عند ربي وہو تعالی أعلم وعلمہ جلّ مجدہ أتمّ وأحکم۔
(۸)…کبھی دو چیزوں کے درمیان دومختلف صفتوں میں تفضیل جاری ہوتی ہے یعنی اس چیز میں اس کی صفت اس چیز میں موجود اس کی صفت سے بڑھ کر ہے: اَلْعَسْلُ أَحْلٰی مِنَ الْخَلِّ(شہد کی مٹھاس سرکے کی ترشی سے بڑھ کر ہے ) اَلصَیْفُ أَحَرُّ مِنَ الشِتَائِ(موسم گرما کی گرمی جاڑے کی سردی سے سخت تر ہے )اور کبھی اسم تفضیل معنی تفضیل سے خالی بھی استعمال ہوتاہے : أَکْرَمْتُ الْقَوْمَ أَصْغَرَہُمْ وَأَکْبَرَہُمْ (میں نے قوم کے سبھی چھوٹوں بڑوں کا اکرام کیا) رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِکُمْ،وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَ ہُوَ اَہۡوَنُ عَلَیۡہِ۔یہاں أَعْلَمُاورأَہْوَنُ عَالِمٌ اور ہَیِّنٌکے معنی میں ہیں ؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں نہ کوئی شریک ہے اور نہ مقدورات اس کی قدرت کے اعتبار