Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
92 - 107
ہواسیلاب) اسی طرح أَیْفَعَ الْغُلَامُ(سن بلوغت کو پہنچنا)، أَوْرَسَ الشَجَرُ(پتوں  کا سبز ہونا)اور أَبْقَلَ الْمَکَانُ(سبزی نکالنا) سییَافِعٌ، وَارِسٌ اوربَاقِلٌ۔
	۳۔اسم فاعل جب عامل ہوتو اس کا ترجمہ حال یا مستقبل والا کریں گے: زَیْدٌ مُکْرِمٌ بَکْرًا(زید بکر کی عزت کرتاہے، زید بکر کی عزت کرے گا)  اسم مفعول کے ترجمے میں  بھی اس چیز کا خیال رکھیئے۔
	(۶)…چار اوزان ایسے ہیں  جو’’مفعول‘‘ کے معنی میں  آتے ہیں :  ۱۔فَعِیْلٌ: قَتِیْلٌ، ذَبِیْحٌ، کَحِیْلٌ، حَبِیْبٌ، أَسِیْرٌ اورطَرِیْحٌ وغیرہ۔  ۲۔فِعْلٌ: ذِبْحٌ، طِحْنٌ اور طِرْحٌ  وغیرہ۔  ۳۔فَعَلٌ: عَدَدٌ، سَلَبٌ اور جَلَبٌ وغیرہ۔ ۴۔فُعْلَۃٌ: أُکْلَۃٌ، مُضْغَۃٌاور طُعْمَۃٌ  وغیرہ۔(ان اوزان میں  مذکر اور مؤنث مساوی ہوتے ہیں  : رَجُلٌ قَتِیْلٌ، ذِبْحٌ، عَدَدٌ، أُکْلَۃٌ، اِمْرَأَۃٌ قَتِیْلٌ الخ)  (الجامع: ۱۸۴)
	(۷)…کسی معنی کے ثبوتی طورپر ہونے کا یہ مطلب نہیں  کہ وہ معنی کبھی ذات سے جدا نہ ہوسکے ایسا ثبوت تو دنیا میں  خود ذات حادث کو حاصل نہیں  تو اس کے معنی کو کہاں  سے ملے! بلکہ یہاں  ثبوت بمقابلہ حدوث ہے اور حدوث کا معنی یہ ہے کہ ذات کے اتصاف بالمعنی میں  کسی زمانے کا اعتبار ہوجیسے: زَیْدٌ ضَارِبٌ جہاں  یہ جملہ بولا جائے گا وہاں  تین میں  سے کسی ایک معنی کے لیے ہوگا:  ۱۔ بمعنی ماضی یعنی زید نے مارا۔ ۲۔بمعنی حال یعنی زیدمارتاہے یا مار رہاہے۔ ۳۔ بمعنی استقبال یعنی زید مارے گا۔اس کا مطلب یہ ہو ا کہ 0یہاں  زید کے معنی ضرب سے متصف ہونے میں  کسی نہ کسی زمانے کا اعتبار ہے لہذا ہم کہیں گے کہ ضَارِبٌ  اُس ذات