عِنْدَہٗ؟ کَمْ إِخْوَتُکَ؟ کَمْ کِتَابًا قَرَأْتَ؟ کَمْ سَاعَۃً اشْتَغَلْتَ؟ کَمْ مَرَّۃً سَافَرْتَ؟ کَمْ صَدِیْقٍ لِيْ، کَمْ دَنَانِیْرَ مَالِيْ، کَمْ مِنْ بَلَدٍ زُرْتُ، کَمْ شَہْرٍ صُمْتُ، کَمْ مَرَّۃٍ سَافَرْتُ۔
(۳)…کبھی صوت کا اطلاق صاحب صوت (جس کی طرف صوت منسوب ہو) پر بھی ہوتا ہے: رَکِبْتُ عَدَسْ(میں خچر پر سوار ہوا ) رَأَیْتُ غَاقِ(میں نے کو ّے کو دیکھا) اِس صورت میں اِسے معرب پڑھنا بھی جائز ہے: رَکِبْتُ عَدَسًا، رَأَیْتُ غَاقًا۔
(۴)…کَيْ کی دو صورتیں ہیں : ۱۔ اس کے ساتھ لام جارہ ہو ۔ اس صورت میں یہ حرف مصدر اور حرف نصب کہلائے گا، مابعد سے مل کر مصدر مؤول ہوکر مجرور ہوگا اور جار مجرور ما قبل فعل کے متعلق ہوجائیں گے: جِئْتُ لِکَيْ تُکْرِمَنِيْ۔ ۲۔اس کے ساتھ لام جارہ نہ ہو۔ اس صورت میں یہ خود حرف جر ہوگا اور اس کے بعد أَنْ ناصبہ مقدر ہوگا، أَنْ ناصبہ مقدرہ مع ما بعد ٗمصدرِ مؤول ہوکر مجرور ہوگا اور جار مجرور ما قبل فعل کے متعلق ہوں گے: جِئْتُ کَيْ تُکْرِمَنِيْ۔(المنہاج : ۲۹۰،۹۱ــ۲)ـ
(۵)…فعل ثلاثی مجرد کے عین کلمے میں تعلیل ہوئی ہو تو اس کے اسم فاعل میں عین کلمہ ہمزہ سے بدل جائے گا: بَاعَ یَبِیْعُ، قَامَ یَقُوْمُ سے بَائِعٌ، قَاِئمٌ۔ ورنہ اپنی حالت پر رہے گا: أَیِسَ یَأْیَسُ، عَوِرَ یَعْوَرُ سے آیِسٌ، عَاوِرٌ۔
فائدہ:
۱۔ کبھی اسم فاعل سے اسم مفعول والا معنی مراد ہوتاہے :فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَـۃٍ۔
۲۔ جو اسم فاعل باب افعال سے ما قبل آخر کے فتح کے ساتھ یا فاعل کے وزن پر آتے ہیں وہ شاذ ہیں : مُلْفَجٌ(مفلس) مُحْصَنٌ(شادی شدہ) سَیْلٌ مُفْعَمٌ(بھرا