(۱)…یعنی معدود مذکرہوتو اسم عدد تاء کے ساتھ اور معدود مؤنث ہوتو اسم عدد بغیر تاء کے آتاہے۔مگرخیال رہے کہ معدود کی تذکیر وتانیث مفرد میں دیکھیں گے مثلًاأَرْغِفَۃٌ کا مفرد رَغِیْفٌ ہے جو مذکر ہے لہذا اس کے اسم عدد میں تاء آئے گی: خَمْسَۃُ أَرْغِفَۃٍ۔ أَدْوُرٌ کا مفرددَارٌ ہے جو مؤنث ہے لہذا اس کے اسم عدد میں تاء نہیں آئے گی: سِتُّ أَدْوُرٍ۔ فائدہ: تین سے دس تک اسم عدد کبھی معدود کی طرف مضاف ہوکرآتاہے اور کبھی معدود کی صفت بن کر: سَبْعَۃُ غِلْمَۃٍ، غِلْمَۃٌ سَبْعَۃٌ۔ پہلی صورت میں اسم عدد عامل کے مطابق اور معدود مجرورہوگا اور دوسری صورت میں معدود عامل کے مطابق اور اسم عدد اس کاتابع ہوگا۔
(۲)…خیال رہے کہکَأَیِّنْ ذو الحال اور ما بعد جار مجرور حال بنتاہے پھر اگر اس کے بعد فعل لازم ہو یاایسا فعل متعدی ہوجس کا مفعول بھی موجود ہو: کَأَیِّنْ مِنْ قَرْیَۃٍ مَرَرْتُ بِہَا، کَأَیِّنْ مِنْ کِتَابٍ قَرَأْتُہٗ۔ تو کَأَیِّنْ مبتدا اور مابعد جملہ خبر بنے گا، ایسا فعل متعدی ہو جس کا مفعول موجود نہ ہو: کَأَیِّنْ مِنْ بَلَدٍ زُرْتُ۔ تو یہ مفعول بہ مقدم بنے گا اوراگریہ مابعد فعل کے مرات پر دلالت کرے: کَأَیِّنْ مِنْ مَرَّۃٍ سَافَرْتُ۔ تو یہ مفعول مطلق مقدم بنے گا۔
اسی طرح کَذَا مفعول بہ، مبتدا، فاعل اور مفعول مطلق بنتاہے: قَبَضْتُ کَذَا قَلَمًا، کَذَا دِرْہَمًا عِنْدِيْ، جَاءَ نَا کَذَا طَالِبًا، ذَہَبْتُ إِلٰی الْحَدِیْقَۃِ کَذَا مَرَّۃً۔
اوریونہی کَمْ مبتدا، خبر، مفعول بہ، مفعول فیہ اور مفعول مطلق بنتاہے : کَمْ قَلَمًا