Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
82 - 107
	.7 پڑھی جانے والی یاء نقطوں  کے ساتھ اور نہ پڑھی جانے والی یاء بغیر نقطوں  کے لکھتے ہیں : اَلْھَادِيْ، اَلتَقْوٰی، یَرْمِيْ، یَرْضٰی، فِيْ، عَلٰی۔
علاماتِ ترقیم (رموزِ اَوقاف):
	.1 فاصلہ(،): یہ معطوف اور معطوف علیہ جملوں  اور مفردات کے درمیان نیز حرف جواب اورمنادی کے بعدلکھتے ہیں : یَا بَکْرُ، أَحْسِنْ۔ نَعَمْ، اَلْعَدْلُ خَیْرٌ۔ 
	.2 فاصلہ منقوطہ(؛): یہ دو ایسے جملوں  کے درمیان لکھتے ہیں  جن میں  سے ایک دوسرے کا سبب اور علت ہو: أَکْرَمْتُہٗ؛ لِأَنَّہٗ عَالِمٌ، ہُوَ عَالِمٌ؛ فَأَکْرَمْتُہٗ۔
	.3 نقطہ (۔): یہ مکمل جملے اورکلام کے آخر میں  لکھتے ہیں : تَأَمَّلْ۔
	.4 نقطتین(:) : یہ مقولے یا کسی چیز کی وضاحت اور تفصیل سے پہلے لکھتے ہیں : قَالَ النُحَاۃُ: اَلْفَاعِلُ مَرْفُوْعٌ نَحْوُ: جَائَ خَالِدٌ، وَہُوَ قِسْمَانِ: ظَاہِرٌ وَضَمِیْرٌ۔ 
	.5علامت ِ استِفہام(؟): یہ سوالیہ جملے کے آخر میں  لکھتے ہیں : ہَلْ نَجَحَ التِلْمِیْذُ؟ مَاذَا تَصْنَعُ؟ کَیْفَ حَالُکَ؟
	.6علامت ِ تأثر(!): یہ تعجب، خوشی، غمی وغیرہ پر دلالت کرنے والے جملے کے آخر میں  لکھتے ہیں: مَا أَجْمَلَ الْبُسْتَانَ!  نِعْمَ الْعَبْدُ الشَاکِرُ!
٭٭٭٭٭٭٭
1:’’بلغ اشدہ‘‘ سن بلوغ کو پہنچ گیا، جوان ہوگیا، لما بلغ خالد اشدہ زوجہ والدہ من ابنۃ عمہ، جب خالد جوان ہوگیا تو اس کے والد نے اس کی شادی اس کی عم زاد سے کردی۔ (عربی محاورات، ص۱۰۸)
2: ’’ضرب مثلا فی‘‘ مثل بیان کی، اس معنی میں قرآنِ کریم میں بہ کثرت وارد ہوا ہے، مثلاً: ’’ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوۡکًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ‘‘ اللہ ایسے غلام کی مثل بیان فرماتا ہے جو کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا۔