مبنی کو کسر دینے کی وجوہات:
.1کسرمبنی کے عمل کا ہم جنس ہو اس وجہ سے : بِزَیْدٍ۔
.2مقابل پر کسرہ ہونے کی وجہ سے : لِیَضْرِبْ(۳۰)۔
.3تانیث کاشعوردلانے کے لیے: أَنْتِ، ضَرَبَکِ۔
.4اجتماع ساکنین سے خلاصی پانے میں کسر کے اصل ہونیکی وجہ سے: أَمْسِ۔
.5آخر کو ماقبل حرف کا تابع کرنے کے لیے: ہٰذِہٖ، تِہِ۔ (خض: ۱/۶۷)
مبنی کو ضم دینے کی وجوہات:
.1نظیر کا آخر واؤ کا ماقبل ہواس وجہ سے: نَحْنُ(۳۱)۔
.2ضم ٗاقوی الحرکات ہونے کی وجہ سے فوات اعراب کی تلافی کرنے والا ہے اس لیے: یَا زَیْدُ، حَیْثُ، فَوْقُ۔
.3آخر کو ماقبل حرف کا تابع کرنے کے لیے: مُنْذُ۔ (خض: ۱/۶۸)
٭٭٭٭٭٭٭
محاورہ خواہ کسی زبان کا ہو اس سے ہمیشہ حقیقی معنی کی بجائے مجازی معنی مراد ہوتا ہے، اہل زبان تو اپنے محاورات کے مجازی معنی خوب سمجھتے ہیں مگر غیر زبان والے کو اس کا معنی سمجھنا دشوار ہوتا ہے، یہ معنی کبھی سیاق وسباق سے سمجھ میں آجاتا ہے اور بعض وقت سیاق وسباق بھی اس مجازی معنی کے فہم میں غیر معاون ثابت ہوتا ہے، اردو کے محاورے میں ہم کہتے ہیں: ’’اس کا دل باغ باغ ہوگیا‘ ‘ اس کا معنی ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فرحت وانبساط میں مبالغہ کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی ’’وہ بہت خوش ہوا‘‘ اگر آپ اس کا عربی میں لفظی ترجمہ کردیں تو یہ ہوگا کہ’’اصبح قلبہ حدیقۃ حدیقۃ‘‘ ظاہر ہے کہ عربی کا بڑے سے بڑا ادیب بھی اس کا معنی سمجھنے سے قاصر رہے گا۔ (عربی محاورات، ص۶۴)