Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
68 - 107
	.6تیسراحرف الف یا واؤ ہو تواسے یاء سے بدل کراس میں  یائے تصغیر کا ادغام کریں گے : عُصَیَّۃٌ، دُلَیَّۃٌ، مُنَیْشِیْرٌٌ۔ (جد:۲/۹۰)
	.7تصغیر میں محذوف حرف بھی لوٹ آتاہے: أُبَيٌّ، مُوَیْہٌ، سُمَيٌّ، بُنَيٌّ۔ اور ثلاثی مؤنث سماعی کے آخرمیں  تاء بھی آجاتی ہے: دُوَیْرَۃٌ، شُمَیْسَۃٌ، عُیَیْنَۃٌ۔
	.8علم مرکب اضافی یا مرکب مزجی ہو تو تصغیر جزء اول میں  ہوگی اور جزء ثانی اپنی حالت پر باقی رہے گا(۲۸): عُبَیْدُ اللہِ، مُعَیْدِیْکَرِبُ، بُعَیْلَبَکُّ۔(جد:۲/۹۳)
	.9کبھی اسم کو زوائدسے خالی کرکے حروف اصلیہ پر تصغیر کی جاتی ہے اسے تصغیر ترخیم کہتے ہیں : مُنْطَلِقٌ، مَحْمُوْدٌ، أَزْہَرُ سے طُلَیْقٌ، حُمَیْدٌ، زُہَیْرٌ۔
	.10بہت سے اسماء کی تصغیر خلاف قیاس بھی آتی ہے: طَيٌّ، عِیْدٌ، حَرْبٌ، أَمَامٌ سے طَائِيٌّ، عُیَیْدٌ، حُرَیْبٌ، أُمَیِّمَۃٌ۔
٭٭٭٭٭٭٭
{…ظرف اور جار مجرور کا متعلَّق …}
	ظرف اور جار مجرور کا فعل، شبہ فعل، مؤوّل بشبہ فعل یا معنی فعل میں سے کسی کے ساتھ متعلِّق ہونا ضروری ہے۔ فعل اور شبہ فعل سے متعلِّق ہونے کی مثال :{صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ۬ۙ۬ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ}، مؤوّل بشبہ فعل سے متعلِّق ہونے کی مثال:{وَ ہُوَ الَّذِیۡ فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰہٌ} یہاں ’’فِی‘‘  ’’اِلٰہٌ‘‘ کے متعلِّق ہے؛ ا س لیے کہ یہ شبہ فعل ’’معبود‘‘ کی تاویل میں ہے۔ اور معنی فعل سے متعلِّق ہونے کی مثال:  فلان حاتم في قومہ یہاں’’في‘‘معنی ’’جود‘‘ کے متعلِّق ہے جو ’’حاتم‘‘ میں ہے۔ (مغنی اللبیب عن کتب الاعاریب: ۲/۹۹تا۱۰۲)