الدرس السبعون
تصغیر کابیان
اسم کے پہلے حرف کو ضمہ اور دوسرے کو فتحہ دیکر اس کے بعد یاء ساکن(یائے تصغیر) بڑھانے کو تصغیرکہتے ہیں اور تصغیر والے اسم کو مُصَغَّرکہتے ہیں : قَلَمٌسے قُلَیْمٌ۔
قواعد وفوائد:
.1تصغیر اُس اسم ِمعرب ٗقابل ِتصغیر کی ہوسکتی ہے جونہ صیغۂ تصغیر پر ہو اور نہ اُس کے مشابہ ہولہذا ضَرَبَ، ذٰلِکَ، کَبِیْرٌ، کُمَیْتٌ اورمُہَیْمِنٌ کی تصغیر جائز نہیں۔
.2تصغیر ٗتقلیل، تحقیر، تقریب، محبت یا تصغیر کی بنا پر کی جاتی ہے: وُرَیْقَاتٌ(کچھ ورق) شُوَیْعِرٌ(گھٹیا شاعر) قُبَیْلٌ(تھوڑا پہلے) بُنَيٌّ(پیارا سابیٹا) طُفَیْلٌ(چھوٹا سا بچہ)
.3یائے تصغیر کاما بعدحرف مکسور ہوگا،لیکن مابعداگر ایک ہی حرف ہویا آخر میں علامت تانیث یا الفِ جمع یا الف نون زائد ہوں تو وہ اپنی حالت پر بر قرار رہے گا: رُجَیْلٌ، تُمَیْرَۃٌ، سُلَیْمٰی، أُسَیْمَائُ، أُحَیْمَالٌ، عُمَیْرَانُ، عُطَیْشَانُ۔ (جد:۲/۸۵)
.4ثلاثی اسم کی تصغیرفُعَیْلٌ،رباعی کی فُعَیْعِلٌ اورخماسی کی فُعَیْعِیْلٌ کے وزن پر آتی ہے جبکہ خماسی میں چوتھاحرف علت ہو ورنہ حرف خامس کو گراکر اس کی تصغیر بھی فُعَیْعِلٌ کے وزن پر لائی جاتی ہے: حُسَیْنٌ، جُعَیْفِرٌ، عُصَیْفِیْرٌ، سُفَیْرِجٌ۔ (جد:۲/۸۶)
.5دوسرا حرف کسی اور حرف سے بدل کر آیا ہو تووہ اصل کی طر ف لوٹ جائے گا: بُوَیْبٌ، نُیَیْبٌ، دُنَیْنِیْرٌ۔اور اصل میں ہمزہ ہویا مجہول الاصل ہویا زائد ہو تو واؤ سے بدل جائے گا: أُوَیْصَالٌ(آصَالٌ سے )، عُوَیْجٌ(عَاجٌ سے )، نُوَیْصِرٌ۔ (جد:۲/۸۸)