Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
66 - 107
تنبیہ2:   بہت سے اسمائے منسوبہ خلاف قیاس بھی آتے ہیں : رَيْسے رَازِيٌّ۔
٭٭٭٭٭٭٭
تمرین  (1)
	س:.1نسبت اور اسم منسوب کسے کہتے ہیں نیز یہ کیا عمل کرتاہے؟ س:.2علم،  اسم ممدود، اسم مقصور اور اسم منقوص کی طرف نسبت کے کیا اصول ہیں ؟ س:.3جس اسم کے آخر میں  یا آخر سے پہلے مشددحرف ہواس کی طرف نسبت کا کیا ضابطہ ہے؟ 
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔  .1جس اسم کویاء لاحق ہو وہ اسم منسوب ہوتاہے۔  .2فَعِیْلَۃٌ کی طرف نسبت میں  ہمیشہ یاء حذف ہوجائے گی۔.3تثنیہ یا جمع کے آخر میں  یائے نسبت لگادینے سے وہ بھی اسم منسوب بن جائیں  گے۔
تمرین  (3)
قواعد کو مد نظر رکھتے ہوئے درج ذیل اسماء سے اسمائے منسوبہ بنائیے۔
	۱۔ہِجْرَۃٌ۔   ۲۔نَحْوٌ۔   ۳۔مَوْلٰی۔   ۴۔عَلِيٌّ۔   ۵۔مَدِیْنَۃٌ۔   ۶۔مُسْتَعْلِيْ۔   ۷۔بِنْتَانِ۔   ۸۔شَرِیْعَۃٌ۔   ۹۔یَدٌ۔   ۱۰۔أُمُّ کُلْثُوْمٍ۔   ۱۱۔عِیْسٰی۔   ۱۲۔عَطَّارٌ۔   ۱۳۔دِہْلِيْ۔   ۱۴۔عَزِیْزَۃٌ۔   ۱۵۔مِائَۃٌ۔   ۱۷۔اِسْلَامٌ۔   ۱۸۔کُتُبٌ۔   ۱۹۔بَعْلَبَکُّ۔ ۲۰۔سَمَائٌ۔   ۲۱۔اِیْمَانٌ۔   ۲۲۔شَابَ قَرْنَاہَا۔   ۲۳۔رِجَالٌ۔   ۲۴۔عَبْدُ الْمُطَّلِبِ۔  ۲۵۔قَوِیْمَۃٌ۔    ۲۶۔ضِیَائُ الدِیْنِ۔   ۲۷۔عَصًا۔   ۲۸۔خَضْرَائُ۔ ۲۹۔زَيٌّ۔    ۳۰۔صُفْرٌ۔  ۳۱۔عَبْدُ الْقَادِرِ۔