Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
60 - 107
الدرس السابع والستون
اِغرا ء اور تحذیرکا بیان 
	جواسم فعلِ محذوف أَلْزِمْ وغیرہ کا مفعول بہ ہو اسے اِغراء کہتے ہیں :  اَلصِدْقَ (سچ کو لازم پکڑ)    اورجو اسم فعلِ محذوف بَعِّدْ، اِتَّقِوغیرہ کا مفعول بہ ہو اسے تحذیر  کہتے ہیں : إِیَّاکَ مِنَ الْأَسَدِ(خود کو شیر سے دورکر)  اَلطَرِیْقَ اَلطَرِیْقَ(راستے سے بچ)
قواعد وفوائد:
	.1اِغراء اصل میں  مُغْرٰی بِہٖ ہوتاہے اور تحذیر کبھی مُحَذَّر اورکبھی مُحَذَّر مِنْہ ہوتاہے جیسے اوپر اَلصِّدْقَ  مغریٰ بہ،اِیَّاکَ  محذراوراَلطَرِیْقَ  محذر منہ ہیں۔ 
	.2اغراء اورتحذیر کے استعمال کی تین صورتیں ہیں :  ۱۔معطوف علیہ ہوں : اَلْعَمَلَ وَالْإِحْسَانَ، اَلْبَرْدَ وَالْحَرَّ۔ ۲۔مکرَّرہوں : اَلصَّبْرَ الصَّبْرَ، اَلشَرَّ اَلشَرَّ۔  ۳۔ مفرد ہوں :  اَلْإِحْسَانَ، اَلظُلْمَ۔
تنبیہ:  پہلی دو صورتوں  میں  ان کے فعل ناصب کو حذف کرناواجب ہے اور آخری صورت میں  جائز ہے واجب نہیں۔ 
	.3تحذیرکبھی ضمیر منصوب مخاطب ہوتی ہے اِس کے بعد محذر منہ تین طرح آتا ہے:  ۱۔واؤ کے ساتھ: اِیَّاکَ وَالْحَسَدَ۔ ۲۔مِنْ کے ساتھ: إِیَّاکُمَا مِنَ الشَرِّ۔ ۳۔مصدر مؤول : إِیَّاکُمْ أَنْ تَکْسَلُوا۔ 
تنبیہ:  ان تینوں صورتوں  میں  تحذیر کے فعل ناصب کا حذْف واجب ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭