Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
58 - 107
الدرس السادس والستون
مبتداو خبراور فاعل و مفعول کی تقدیم وتاخیر
	مبتدا میں  اصل تقدیم اور خبر میں  اصل تاخیر ہے اور مبتدا کی تاخیر اور خبر کی تقدیم بھی جائز ہے لیکن چار صورتوں  میں  مبتدا کو مقدم اور خبر کو مؤخر لانا واجب ہے:
	۱۔مبتدا ایسے معنی پر مشتمل ہو جس کا شروع کلام میں  ہونا ضروری ہے: مَنْ أَبُوْکَ۔  ۲۔ مبتدا اور خبر دونوں  معرفہ ہوں : زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ۔  ۳۔ مبتدا اور خبر دونوں  نکرہ مخصوصہ ہوں : أَفْضَلُ مِنْکَ أَفْضَلُ مِنِّيْ۔  ۴۔خبرمبتدا کا فعل ہو یعنی خبر جملہ فعلیہ ہو اور اس کی ضمیر مرفوع مبتدا کی طرف راجع ہو: زَیْدٌ قَامَ۔
اورچار صورتوں  میں  خبر کو مقدم اور مبتدا کو مؤخرکرناواجب ہے:
	۱۔خبر ایسے معنی پر مشتمل ہو جس کا شروع کلام میں  ہونا ضروری ہے(۲۴) : أَیْنَ زَیْدٌ۔ ۲۔خبر کی تقدیم کی وجہ سے مبتدا کا مبتدا واقع ہونا صحیح ہوتاہو: فِيْ الدَارِ رَجُلٌ۔  ۳۔مبتدا میں  ایسی ضمیر ہو جو خبرکے جز کی طرف لوٹ رہی ہو: فِي الدَارِ صَاحِبُہَا۔  ۴۔جب أَنَّ  اسم اور خبر سے مل کر مبتدا واقع ہو: عِنْدِيْ أَنَّکَ عَالِمٌ۔
	یونہی فاعل میں  اصل یہ ہے کہ وہ مفعول سے مقدم اورمفعول مؤخر ہو لیکن چار صورتوں میں  فاعل کومقدم اور مفعول کو مؤخر لانا واجب ہے:
	۱۔ان میں  سے کسی میں  بھی لفظًا اعراب نہ ہو اور نہ ایسا قرینہ ہو جس سے فاعل یا مفعول کی پہچان ہوسکے: نَصَرَ مُوْسٰی یَحْیٰی۔ ۲۔فاعل ضمیر متصل ہو : أَعَنْتُ فَقِیْرًا۔  ۳۔مفعول إِلَّا کے بعد واقع ہو: مَا رَاٰی زَیْدٌ إِلَّا عَمْرًا۔  ۴۔مفعول معنی إِلَّاکے