Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
56 - 107
الدرس الخامس والستون
مبتدا کی قسم ثانی
	جو صیغۂ صفَت نفی یا استفہام کے بعد واقع ہو اور اسم ظاہر کو رفع دے وہ بھی مبتدا ہوتا ہے اسی کو مبتدا کی قسم ثانی کہتے ہیں : ہَلْ ذَاہِبٌ وَلَدَانِ، مَا مَوْجُوْدٌ رِجَالٌ۔
قواعد وفوائد:
	.1صفت کا صیغہ واحد اور اسم ظاہر تثنیہ یا جمع ہو تو صفت کا صیغہ مبتدا اور اسم ظاہر  اس کا فاعل یا نائب فاعل قائم مقام خبرہو گا: أَ حَزِیْنٌ غُلَامَانِ، لَا مَہْزُوْمٌ جُیُوْشٌ۔ 
	.2صیغۂ صفَت اور اسم ظاہر دونوں  تثنیہ یا دونوں  جمع ہوں  توصیغۂ صفَت خبر مقدم اور اسم ظاہر مبتدا مؤخر کہلائے گا: أَ مُجْتَہِدَانِ تِلْمِیْذَانِ، مَا مُکَرَّمُوْنَ فَاسِقُوْنَ۔
	.3صفت کا صیغہ اور اسم ظاہر دونوں  واحد ہوں  تواختیار ہے کہ صیغۂ صفَت کو مبتدا بنائیں  اور اسم ظاہر کو فاعل قائم مقام خبر یا صفت کو خبر مقدم قرار دیں  اور اسم ظاہر  کو مبتدا مؤخر:  أَ مُسْتَنْصِرٌ ضَعِیْفٌ، مَا مَرْمِيٌّ حَجَرٌ۔
تنبیہ:  ایسا نہیں  ہوسکتا کہ اسم ظاہر واحد اور صفت کا صیغہ تثنیہ یا جمع ہو یا ان میں  سے کوئی ایک تثنیہ اور دوسراجمع ہو۔
٭٭٭٭٭٭٭
’’نبذہ وراء ظہرہ‘‘ اس کا لفظی ترجمہ ہے: اس کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا، مجازی معنی یہ ہے کہ کسی چیز کو اہمیت نہیں دی، اس کی طرف وہ التفات نہیں کیا جس کی وہ مستحق تھی، اردو میں اس معنی کی تعبیر کے لئے ’’پس پشت ڈالنا‘‘ استعمال ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے: ’’نَبَذَ فَرِیۡقٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ ٭ۙ کِتٰبَ اللہِ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمْ کَاَنَّہُمْ لَایَعْلَمُوۡنَ‘‘  (عربی محاورات، ص۳۹)